لاہور کی ایک جوڈیشل مجسٹریٹ عدالت نے انسانی نال کی اسمگلنگ میں ملوث گرفتار ملزمان کا تین روزہ جسمانی ریمانڈ ایف آئی اے کے حوالے کر دیا۔ تحقیقاتی ادارے کا الزام ہے کہ یہ گروہ مقامی ہسپتالوں سے انسانی اعضاء اور نال جمع کر کے انہیں بیرونِ ملک اسمگل کر رہا تھا، جس سے ایک گھناؤنے میڈیکل نیٹ ورک کا انکشاف ہوا ہے۔
ایف آئی اے نے نجی کلینک سے انسانی نال کی غیر قانونی وصولی کی اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے ملزمان کو حراست میں لیا۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق، یہ مواد بیرونِ ملک بھجوایا جا رہا تھا جہاں اسے کاسمیٹکس اور ادویات سازی کی صنعتوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔
ایف آئی اے کے ایک تفتیشی افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ یہ محض طبی فضلے کا معاملہ نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک منظم نیٹ ورک ہے جس نے طبی فضلے کو منافع بخش کاروبار بنا رکھا ہے۔
عدالت میں پیشی کے دوران ایف آئی اے کے پراسیکیوٹر نے موقف اختیار کیا کہ ملزمان سے تفتیش اور ان کے سہولت کاروں تک پہنچنے کے لیے جسمانی ریمانڈ ناگزیر ہے۔ پراسیکیوٹر کے مطابق، یہ جاننا ضروری ہے کہ ہسپتالوں کے اندر سے یہ مواد باہر نکالنے میں کون سے طبی عملے ملوث ہیں۔
دوسری جانب، ملزمان کے وکلاء نے دلائل دیے کہ ان کے موکل صرف کوڑا کرکٹ اٹھانے کا کام کرتے ہیں اور بین الاقوامی اسمگلنگ سے ان کا کوئی تعلق نہیں۔ تاہم، مجسٹریٹ نے وکلاء کے دلائل مسترد کرتے ہوئے ایف آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ تفتیش کو جلد مکمل کر کے رپورٹ پیش کرے۔
اس واقعے نے پنجاب میں طبی فضلے کے انتظام پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔ قانون کے تحت ہسپتالوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ انسانی اعضاء اور دیگر بائیو میڈیکل ویسٹ کو تلف کرنے کے لیے انسیریٹر کا استعمال کریں، مگر نجی مراکز میں نگرانی کا فقدان اس غیر قانونی کاروبار کے لیے راستہ ہموار کرتا رہا ہے۔
ایف آئی اے اب ملزمان کے مالی ریکارڈ اور ڈیجیٹل مواصلات کی جانچ کر رہی ہے۔ اگر تحقیقات سے مزید شواہد سامنے آئے تو یہ کیس ہسپتالوں میں طبی فضلے کو ٹھکانے لگانے کے نظام میں موجود خامیوں اور انسانی ٹشوز کی عالمی بلیک مارکیٹ کے گہرے روابط کا پردہ چاک کر سکتا ہے۔
