کوئٹہ: سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر کیے گئے تیز رفتار آپریشنز کے دوران 8 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا ہے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے جمعرات کو اس کارروائی کی تصدیق کی۔
فوجی ترجمان کے مطابق یہ آپریشن صوبے کے مختلف علاقوں میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کے لیے کیے گئے۔ کارروائی کے دوران ہلاک ہونے والے افراد کالعدم تنظیموں کے سرگرم رکن تھے، جن کے قبضے سے اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکہ خیز مواد بھی برآمد ہوا ہے۔
بلوچستان ایک طویل عرصے سے بدامنی کا شکار ہے۔ عسکریت پسند گروپ اکثر سیکیورٹی قافلوں اور سرکاری تنصیبات کو نشانہ بناتے ہیں۔ حالیہ آپریشن ان نیٹ ورکس کو توڑنے کی کوشش ہے جو صوبے میں امن و امان کی صورتحال کو خراب کرنے اور ترقیاتی منصوبوں میں رکاوٹ ڈالنے میں ملوث ہیں۔
آئی ایس پی آر کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سیکیورٹی فورسز صوبے سے دہشت گردی کی لعنت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے پرعزم ہیں۔ آپریشن کے دوران سیکیورٹی فورسز کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
فوج نے حالیہ مہینوں میں اپنی حکمت عملی میں تبدیلی کرتے ہوئے ‘ہائی ٹیمپو’ آپریشنز پر توجہ مرکوز کی ہے۔ یہ طریقہ کار دفاعی پوزیشن کے بجائے پیشگی حملوں پر مبنی ہے تاکہ دہشت گردوں کو کسی بھی بڑی کارروائی سے قبل ہی ناکام بنایا جا سکے۔
اگرچہ حکام کا موقف ہے کہ یہ کارروائیاں صوبے میں استحکام کے لیے ناگزیر ہیں، تاہم ان جھڑپوں کی بڑھتی ہوئی تعداد ملک کے سب سے بڑے صوبے میں سیکیورٹی چیلنجز کی سنگینی کو ظاہر کرتی ہے۔
فی الحال، عسکری حکام کا ماننا ہے کہ ان ہلاکتوں نے ہدف بنائے گئے علاقوں میں مقامی عسکریت پسند سیلز کی آپریشنل صلاحیت کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ حساس علاقوں میں سرچ آپریشن اور انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر چھاپوں کا سلسلہ تاحال جاری ہے۔
