اسلام آباد: وفاقی وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا ہے کہ اگر عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مزید کمی آتی ہے تو پاکستان میں بھی پیٹرول کی قیمت کم کی جا سکتی ہے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علی پرویز ملک نے کہا کہ حکومت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین بین الاقوامی خام تیل کی قیمتوں، ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر، درآمدی اخراجات، فریٹ چارجز اور ٹیکسز کو مدنظر رکھتے ہوئے کرتی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ حکومت جان بوجھ کر عوام کو ریلیف سے محروم نہیں رکھ رہی بلکہ پیٹرول کی قیمتوں کا تعین ایک شفاف طریقہ کار کے تحت کیا جاتا ہے۔ ان کے مطابق اگر عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں مسلسل کم رہتی ہیں تو آئندہ جائزے میں عوام کو مزید ریلیف مل سکتا ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت ایک طرف عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرنا چاہتی ہے جبکہ دوسری جانب ملکی معیشت، مالی استحکام اور حکومتی آمدنی کے تقاضوں کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا ہر پندرہ روز بعد جائزہ لیا جاتا ہے اور مستقبل کے فیصلے عالمی مارکیٹ کی صورتحال کے مطابق کیے جائیں گے۔
یہ وضاحت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب حکومت نے حالیہ جائزے میں پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتیں برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا، جس کے بعد عوام کی جانب سے مزید کمی کے امکانات پر سوالات اٹھائے جا رہے تھے۔
