کراچی: گوگل میپس پر انحصار کرنا کراچی کے ایک خاندان کے لیے ڈراؤنا خواب بن گیا، جب نیویگیشن ایپ نے انہیں شارٹ کٹ کے چکر میں بلوچستان کے ایک ویران اور غیر محفوظ علاقے میں پہنچا دیا۔ یہ خاندان ایک طویل سفر پر گامزن تھا کہ ایپ کی رہنمائی نے انہیں ایسی کچی اور سنسان پگڈنڈی پر ڈال دیا جہاں مقامی مسلح افراد پہلے ہی گھات لگائے بیٹھے تھے۔
یہ واقعہ اس بڑھتے ہوئے خطرے کی نشاندہی کرتا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کا اندھا اعتماد ان علاقوں میں جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے جہاں زمینی حقائق کا ڈیجیٹل نقشوں سے کوئی تعلق نہیں۔
واقعہ اس وقت پیش آیا جب گاڑی ناہموار راستے پر سست ہوئی تو نامعلوم مسلح افراد نے انہیں گھیر لیا۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی عدم موجودگی اور موبائل سگنلز نہ ہونے کے باعث خاندان کے پاس مدد کے لیے پکارنے کا کوئی راستہ نہیں تھا۔ حملہ آوروں نے انہیں یرغمال بنا کر نقدی، قیمتی سامان اور سفری دستاویزات چھین لیں اور پھر ویرانی میں فرار ہوگئے۔
متاثرہ خاندان کے ایک قریبی عزیز نے میڈیا کو بتایا، "میپ پر وہ راستہ ایک قابلِ استعمال سڑک دکھائی دے رہا تھا۔ ہم نے ٹیکنالوجی پر بھروسہ کیا کیونکہ آج کل سب یہی کرتے ہیں، مگر وہ ہمیں ایسی جگہ لے گیا جہاں قانون کی پہنچ ہی نہیں۔”
یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں۔ سکیورٹی تجزیہ کار طویل عرصے سے خبردار کر رہے ہیں کہ گوگل میپس جیسے پلیٹ فارمز اکثر دو مقامات کے درمیان ‘کم ترین فاصلہ’ دکھانے کے لیے ایسے راستوں کا انتخاب کرتے ہیں جو سکیورٹی کے لحاظ سے انتہائی حساس ہوتے ہیں۔ بلوچستان کے کئی حصوں میں یہ الگورتھم اکثر پرانی کان کنی کی پگڈنڈیوں یا قبائلی راستوں کی نشاندہی کرتے ہیں جو درحقیقت مقامی گروہوں کے کنٹرول میں ہوتے ہیں۔
پولیس حکام نے مسافروں کو تنبیہ کی ہے کہ وہ این-25 یا کوسٹل ہائی وے جیسے مرکزی راستوں تک محدود رہیں اور ایپ کی جانب سے بتائے گئے کسی بھی غیر معروف شارٹ کٹ سے گریز کریں۔
اس خاندان نے اپنی جان تو بچا لی، لیکن یہ واقعہ ایک تلخ حقیقت کو اجاگر کرتا ہے: بلوچستان کے دشوار گزار علاقوں میں سیٹلائٹ سگنل مقامی معلومات کا متبادل نہیں ہو سکتے۔
