سوات کے علاقے مینگورہ میں منگل کے روز ایک دلخراش واقعے میں دو کمسن بہن بھائی اپنے گھر کی چھت پر رکھے سٹوریج باکس کے اندر مردہ حالت میں پائے گئے۔ اس واقعے نے پورے علاقے کو سوگوار کر دیا ہے۔
متاثرہ بچوں کی شناخت 6 سالہ محمد اور 4 سالہ بہن کے طور پر ہوئی ہے۔ بچوں کے والد، جو پیشے کے اعتبار سے تاجر ہیں، نے بتایا کہ وہ گھر پہنچے تو بچے غائب تھے، جس کے بعد گھر میں کہرام مچ گیا۔
خاندان کے ایک قریبی فرد نے آبدیدہ ہوتے ہوئے بتایا، "ہم نے گھنٹوں تک ہر جگہ تلاش کی، جب ہم نے چھت پر موجود سٹوریج باکس کھولا تو وہ اندر موجود تھے۔ تب تک بہت دیر ہو چکی تھی۔”
ابتدائی پولیس رپورٹ کے مطابق بچے چھت پر کھیل رہے تھے اور غالباً اسی دوران وہ پلاسٹک کے بڑے باکس میں داخل ہو گئے۔ باکس کا ڈھکن بھاری ہونے کے باعث خود بخود بند ہو گیا، جس سے اندر آکسیجن ختم ہو گئی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ لاشوں پر تشدد یا کسی اور قسم کے نشانات نہیں ملے ہیں۔
تفتیش کی نگرانی کرنے والے ایک اعلیٰ افسر نے کہا، "ظاہری طور پر یہ ایک المناک حادثہ معلوم ہوتا ہے۔ باکس بھاری تھا اور اندر سے کھلنے کی گنجائش نہیں تھی۔”
بچوں کی لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لیے سیدو شریف ٹیچنگ ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ طبی رپورٹ کا انتظار ہے، تاہم تفتیشی حکام فی الحال اسے دم گھٹنے سے ہونے والی ہلاکت قرار دے رہے ہیں۔
اس واقعے کے بعد محلے میں ہر آنکھ اشکبار ہے۔ اہل خانہ صدمے سے نڈھال ہیں، جبکہ ہمسایوں کی بڑی تعداد تعزیت کے لیے گھر پر موجود ہے۔
مقامی حکام نے والدین سے اپیل کی ہے کہ وہ گھروں کی چھتوں پر موجود ایسی اشیاء کو محفوظ بنائیں جو بچوں کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔ مینگورہ کا یہ گھر اب خاموش ہے، جہاں سوگوار خاندان بچوں کی آخری رسومات کی تیاریوں میں مصروف ہے۔
