پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اگلی پندرہ روزہ نظرثانی کے دوران مزید کمی متوقع ہے۔ مشیر برائے سیاسی و عوامی امور رانا ثناء اللہ نے ایک حالیہ ٹی وی انٹرویو میں اس رجحان کی تصدیق کی ہے، جس کی بنیادی وجہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں استحکام ہے۔
یہ اقدام ان صارفین کے لیے کسی ریلیف سے کم نہیں جو گزشتہ کئی ماہ سے مہنگائی اور ٹرانسپورٹ کے بھاری اخراجات کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) ابھی حتمی اعداد و شمار پر کام کر رہی ہے، لیکن عالمی منڈی میں قیمتوں کا گرتا ہوا گراف اب مقامی سطح پر بھی اثر دکھانے لگا ہے۔
رانا ثناء اللہ نے اگرچہ حتمی قیمتوں کا اعلان نہیں کیا، تاہم ان کا کہنا تھا کہ حکومت عالمی منڈی میں قیمتیں کم ہونے کا فائدہ عوام تک پہنچانے کے لیے پرعزم ہے۔ وزارت خزانہ اس وقت گزشتہ 15 دنوں کی ‘پلیٹس’ قیمتوں اور ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر کا جائزہ لے رہی ہے تاکہ آئندہ پندرہ دن کے لیے نئی قیمتوں کا تعین کیا جا سکے۔
عام آدمی کے لیے یہ خبر ایک وقتی سکون کا باعث ہے۔ ایندھن کی قیمتوں میں مسلسل اضافے نے نہ صرف سفر بلکہ اشیائے خوردونوش کی قیمتوں کو بھی آسمان پر پہنچا دیا تھا۔ تاہم، سوال یہ ہے کہ کیا پیٹرول سستا ہونے پر پبلک ٹرانسپورٹ کے کرائے بھی کم ہوں گے؟ ماضی میں ایسا کم ہی ہوا ہے کہ ایندھن کی قیمت گرنے پر ٹرانسپورٹرز نے کرایوں میں کمی کی ہو۔
حکومت اس وقت ایک مشکل توازن قائم کرنے کی کوشش میں ہے۔ ایک طرف عوام کی جانب سے قیمتوں میں کمی کا شدید دباؤ ہے، تو دوسری طرف بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے طے کردہ ریونیو اہداف کو پورا کرنے کے لیے پیٹرولیم لیوی کی وصولی بھی ضروری ہے۔ حکومتی معاشی ٹیم اس وقت اس کوشش میں ہے کہ عوامی ریلیف اور ملکی مالیاتی ڈسپلن کے درمیان توازن برقرار رہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ مشرقِ وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال کے باعث عالمی سپلائی چین اب بھی غیر مستحکم ہے، لیکن خام تیل کی موجودہ قیمتیں حکومت کو ریلیف دینے کا ایک نادر موقع فراہم کر رہی ہیں۔
نئی قیمتوں کا باضابطہ اعلان پندرہ روزہ مدت ختم ہونے پر کیا جائے گا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا پیٹرول کی قیمت میں ہونے والی یہ ممکنہ کمی، ماضی کی طرح صرف کاغذی رہے گی یا اس کا اثر عام آدمی کی جیب پر بھی پڑے گا۔
