تہران — بدھ کے روز تہران کی گرینڈ مصلیٰ مسجد کے اطراف کی سڑکیں ہزاروں سوگواروں سے کھچا کھچ بھری ہوئی تھیں، جن کی زبان پر ایک ہی مطالبہ تھا: "انتقام”۔
رواں ہفتے ایک ٹارگٹڈ حملے میں جاں بحق ہونے والے ایرانی سپریم لیڈر کی نمازِ جنازہ ایک مذہبی تقریب سے زیادہ ریاستی سطح پر طاقت کے مظاہرے میں تبدیل ہو گئی۔ دارالحکومت کے مرکزی چوکوں پر سیاہ جھنڈے لہرائے جا رہے تھے، جبکہ فضا میں غم اور کسی بڑے فوجی ردعمل کی شدید کشیدگی محسوس کی جا سکتی تھی۔
سوگواروں کے لیے یہ صرف قیادت کا خلا نہیں، بلکہ ایک ایسی اشتعال انگیزی ہے جس کا جواب دینا ریاست کے لیے ناگزیر ہو چکا ہے۔
قم سے جنازے میں شرکت کے لیے آنے والے 42 سالہ دکاندار رضا نے کہا، "ہم یہاں رونے نہیں آئے، ہم اس بات کو یقینی بنانے آئے ہیں کہ ان کا خون رائیگاں نہ جائے۔ دشمن سمجھتا ہے کہ انہوں نے ہمارا سر کاٹ دیا ہے، لیکن انہوں نے ہمیں مزید خطرناک بنا دیا ہے۔”
سرکاری میڈیا نے براہ راست نشریات میں سیاہ لباس میں ملبوس ہجوم اور اسٹیج سے گونجتی جذباتی تقاریر پر توجہ مرکوز رکھی۔ فوجی کمانڈرز تابوت کے قریب خاموش کھڑے تھے، جن کے چہروں پر غصہ اور عزم عیاں تھا۔ مقررین کا پیغام واضح تھا: سپریم لیڈر کا قتل جنگی اقدام ہے اور اس کا جواب حساب کتاب کے ساتھ، سخت اور یقینی ہوگا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایرانی سیکیورٹی کونسل پر دباؤ اپنی انتہا پر ہے۔ اگرچہ حکومت عوامی سطح پر اتحاد کا مظاہرہ کر رہی ہے، لیکن اندرونی طور پر اصل چیلنج یہ ہے کہ ایک ایسی جوابی کارروائی کیسے کی جائے جس سے پورے خطے میں جنگ نہ چھڑ جائے۔ مذہبی قیادت کی ساکھ ایک ناقابل تسخیر ریاست کے تصور پر قائم ہے؛ ہارڈ لائن حامیوں کے نزدیک انتقام نہ لینا کمزوری کی علامت سمجھا جائے گا۔
مغربی انٹیلی جنس ادارے سرحدوں پر نقل و حرکت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ سیٹلائٹ تصاویر سے میزائل لانچ سائٹس پر سرگرمی میں اضافے کے اشارے ملے ہیں، تاہم تہران نے ابھی تک اپنے ہدف کا اعلان نہیں کیا۔ یہ ابہام دانستہ ہے۔ دنیا کو تجسس میں رکھ کر ایرانی قیادت نفسیاتی برتری برقرار رکھے ہوئے ہے جبکہ وہ اپنی عسکری حکمت عملی کو حتمی شکل دے رہی ہے۔
جلوس آہستہ آہستہ شہر کے جنوبی دروازے کی جانب بڑھ رہا ہے جہاں تدفین کی جائے گی۔ سورج ڈھلنے کے ساتھ ہی نعروں کی گونج میں مزید شدت آ گئی، جو اب دعا سے زیادہ ایک وارننگ معلوم ہوتی تھی۔
تہران فی الحال ہائی الرٹ پر ہے اور اہم چوراہوں پر سیکیورٹی فورسز تعینات ہیں۔ سڑکوں پر بظاہر خاموشی ہے، لیکن یہ خاموشی دھوکہ دہی پر مبنی ہے۔ ہر کوئی اگلے قدم کا منتظر ہے۔
