گرین ہیڈ، مغربی آسٹریلیا: آسٹریلیا کے دور افتادہ ساحلی علاقے میں پراسرار دھاتی گولوں اور ملبے کے ملنے نے مقامی حکام کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ سمندری لہروں کے ساتھ بہہ کر آنے والے ان بھاری بھرکم اور سمندری حیات سے ڈھکے ہوئے ڈھانچوں کی اصل شناخت تاحال ایک معمہ بنی ہوئی ہے۔
پہلی بار گزشتہ برس جولائی میں گرین ہیڈ کے قریب دو میٹر اونچا ایک بڑا دھاتی سلنڈر ساحل پر پایا گیا تھا۔ اس کے بعد سے مزید ملبہ بھی ساحل پر نمودار ہوا ہے، جس کے بعد ریاستی اور وفاقی ادارے اس بات کا سراغ لگانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ ٹکڑے کہاں سے آئے۔ ماہرین کی رائے اس معاملے پر تقسیم ہے، تاہم ابتدائی قیاس آرائیاں اسے کسی پرانے سیٹلائٹ کا حصہ قرار دے رہی ہیں۔
آسٹریلین اسپیس ایجنسی نے اب اس معاملے کی کمان سنبھال لی ہے۔ فائر اینڈ ایمرجنسی سروسز کے ساتھ مل کر ان اشیاء کے گرد حفاظتی حصار قائم کیا گیا ہے تاکہ عوام کو کسی بھی ممکنہ خطرے سے دور رکھا جا سکے۔ حکام کو خدشہ ہے کہ یہ دھاتی ڈھانچے کسی خطرناک کیمیائی مادے کے حامل ہو سکتے ہیں۔
ایجنسی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ "ہم اس وقت معلومات اکٹھی کر رہے ہیں،” اور انہوں نے عوام کو سختی سے ہدایت کی ہے کہ وہ ان اشیاء کو ہرگز نہ چھوئیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ زنگ آلود دھات کے اندر موجود مواد زہریلا ہو سکتا ہے۔
ایرو اسپیس انجینئرز نے جب ان ملبوں کی تصاویر کا جائزہ لیا تو ان کا اشارہ بھارتی پولر سیٹلائٹ لانچ وہیکل کی جانب گیا ہے۔ ان پر موجود نشانات اور دھات کے مڑے ہوئے حصے بتاتے ہیں کہ یہ کسی خلائی گاڑی کا حصہ ہیں جو فضا میں داخل ہوتے وقت شدید دباؤ کا شکار ہوئی۔ اگر یہ ملبہ برسوں پرانا ہے، تو یہ خلائی کچرے کے بڑھتے ہوئے خطرے پر ایک بار پھر سوالیہ نشان کھڑا کرتا ہے، جو زمین پر گرنے کے باوجود مکمل طور پر جل نہیں پاتے۔
مقامی رہائشیوں کے لیے یہ معاملہ سائنسی تحقیق سے زیادہ سیاحت اور ماہی گیری کے لیے خطرہ بن چکا ہے۔ گرین ہیڈ کا ساحل، جو اپنی خوبصورتی کے لیے مشہور ہے، اب ایک ممنوعہ علاقہ بن چکا ہے۔ مقامی آبادی کو اس بات کی فکر ہے کہ کہیں مزید ملبہ سمندر سے ان کے ساحل تک نہ پہنچ جائے۔
مغربی آسٹریلیا کی پولیس نے ساحل کے اس حصے کو سیل کر دیا ہے۔ ملبے کو فرانزک ٹیسٹ کے لیے ایک محفوظ مقام پر منتقل کیا جا رہا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا مزید ایسا ملبہ بحر ہند میں تیر رہا ہے جو کسی بھی وقت ساحل سے ٹکرا سکتا ہے؟
فی الحال گرین ہیڈ کا ساحل خاموش ہے، صرف لیبارٹری کی رپورٹس کا انتظار ہے جو یہ تصدیق کریں گی کہ آسمان سے گرنے والی یہ چیزیں آخر کب سے سمندر میں تیر رہی تھیں۔
