جماعت اسلامی کراچی نے وفاقی حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے خلاف کل سے شہر بھر میں احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ پارٹی قیادت نے شہر کے اہم مقامات پر مظاہروں کی حکمت عملی کو حتمی شکل دے دی ہے، جس کا مقصد بڑھتی ہوئی مہنگائی کے ستائے شہریوں کی آواز کو حکمران اتحاد تک پہنچانا ہے۔
یہ احتجاج محض پیٹرول کی قیمتوں تک محدود نہیں ہے۔ جماعت اسلامی کے کراچی امیر منعم ظفر کے لیے یہ ایک سیاسی موقع بھی ہے جس کے ذریعے وہ عوام میں پائے جانے والے شدید غم و غصے کی ترجمانی کرنا چاہتے ہیں۔ کراچی کے عام شہری کے لیے پیٹرول کی قیمت میں اضافہ محض فیول اسٹیشن کا بل نہیں، بلکہ یہ اشیائے خوردونوش اور پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں اضافے کا ایسا سلسلہ ہے جس کی تاب لانا اب متوسط طبقے کے لیے ناممکن ہو چکا ہے۔
پارٹی کے ایک مرکزی ترجمان نے آج گفتگو کرتے ہوئے کہا، "ہم صرف پیٹرول کے نرخوں کے خلاف نہیں، بلکہ معاشی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں۔”
احتجاج کے لیے شہر کی اہم شاہراہوں اور مصروف ترین چوراہوں کا انتخاب کیا گیا ہے تاکہ حکومتی ایوانوں تک پیغام واضح رہے۔ پولیس اور مقامی انتظامیہ نے ممکنہ ٹریفک جام اور امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر سیکیورٹی انتظامات سخت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ حساس مقامات پر نفری بڑھائی جا رہی ہے تاکہ مظاہروں کو پرامن رکھا جا سکے۔
جماعت اسلامی ماضی میں بھی معاشی پالیسیوں کے خلاف سڑکوں پر آتی رہی ہے، لیکن اس بار کا احتجاج زیادہ اہم ہے۔ حکومت پہلے ہی آئی ایم ایف کے پروگرام اور معاشی عدم استحکام کے دباؤ میں ہے، ایسے میں یہ احتجاج حکومتی ساکھ کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔
حکومت کا موقف ہے کہ پیٹرول کی قیمتوں کا تعین عالمی منڈی کے نرخوں اور روپے کی قدر کے مطابق کیا جاتا ہے، تاہم کراچی جیسے شہر میں جہاں قوتِ خرید پہلے ہی دم توڑ چکی ہے، یہ تکنیکی دلائل عوامی غصے کو ٹھنڈا کرنے میں ناکام ہیں۔
کل صبح جب کراچی بیدار ہوگا تو شہری ایک طرف بڑھتی ہوئی قیمتوں اور دوسری طرف بند راستوں کے درمیان پھنسے ہوں گے۔ یہ صورتحال اس شہر کے لیے نئی نہیں جو پاکستان کی معاشی بے چینی کا مرکز بنا ہوا ہے۔ کیا یہ احتجاج حکومتی پالیسیوں میں تبدیلی لا پائے گا؟ اس کا جواب فی الحال کسی کے پاس نہیں، لیکن جماعت اسلامی کا مقصد واضح ہے: حکمرانوں کی توجہ صرف مہنگائی کے اس گرداب پر مرکوز کروانا جس نے عام آدمی کی زندگی اجیرن کر رکھی ہے۔
