امریکہ اور ایران کے درمیان طویل عرصے سے جاری ‘شیڈو وار’ اب کھلی کشیدگی میں بدل چکی ہے۔ عراق، شام اور یمن میں حالیہ فضائی حملوں کے تبادلے نے خطے کو ایک ایسے خطرناک موڑ پر لا کھڑا کیا ہے جہاں سے براہِ راست اور وسیع پیمانے پر تصادم کا امکان بڑھتا جا رہا ہے۔
امریکی فوج کے حالیہ فضائی حملے—جن میں ایرانی پاسدارانِ انقلاب سے منسلک تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا—اردن میں امریکی اڈے پر ہونے والے اس ڈرون حملے کا ردعمل ہیں جس میں تین امریکی فوجی ہلاک ہوئے تھے۔ پینٹاگون ان کارروائیوں کو ‘متناسب’ قرار دے رہا ہے، جبکہ تہران اسے اپنی خودمختاری پر حملہ سمجھتا ہے۔ یہ صورتحال خطے میں ایک ایسی کشمکش کو جنم دے رہی ہے جہاں کوئی بھی فریق پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں۔
بائیڈن انتظامیہ کا مقصد واضح ہے: امریکی فوجیوں پر مزید حملوں کو روکنا، لیکن ساتھ ہی ایک مکمل علاقائی جنگ سے بھی بچنا۔ امریکی حکام اس وقت انتہائی نازک توازن پر چل رہے ہیں۔ ایرانی حمایت یافتہ ملیشیاؤں کو کمزور کرنے کے لیے کی جانے والی ہر کارروائی کے جواب میں ایک ایسا جوابی حملہ ہو سکتا ہے جو واشنگٹن کو اس جنگ میں دھکیل دے جسے وہ برسوں سے ٹال رہا ہے۔
تہران کی حکمت عملی بھی اسی طرح نپی تلی ہے۔ لبنان میں حزب اللہ سے لے کر یمن میں حوثیوں تک، ایران اپنے ‘مزاحمتی محور’ کے نیٹ ورک کو استعمال کر کے امریکی مفادات پر دباؤ ڈال رہا ہے۔ یہ پراکسی وار ایران کو اس قابل بناتی ہے کہ وہ براہِ راست اپنی سرزمین پر امریکی حملے کا خطرہ مول لیے بغیر امریکہ کو نقصان پہنچائے۔
اس تنازع کے اثرات اب عسکری حدوں سے نکل چکے ہیں۔ بحیرہ احمر میں عالمی تجارتی جہاز رانی متاثر ہو رہی ہے، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں غیر یقینی صورتحال ہے، اور وہ سفارتی راستے جو کبھی ان کشیدگیوں کو قابو میں رکھتے تھے، اب خاموش ہو چکے ہیں۔
منگل کے روز پینٹاگون کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ، "ہم ایران کے ساتھ جنگ کے خواہشمند نہیں ہیں۔” تاہم، زمینی حقائق بتاتے ہیں کہ دونوں فریقین اب صورتحال پر اپنا کنٹرول کھو رہے ہیں۔ ہر جوابی کارروائی نئے اہداف کو نشانہ بنا رہی ہے، اور ‘ریڈ لائن’ کی تعریف ہر گزرتے دن کے ساتھ بدلتی جا رہی ہے۔
جیسے جیسے امریکی فوج مزید دفاعی کارروائیوں کی تیاری کر رہی ہے، سوال یہ نہیں رہا کہ یہ سلسلہ کب تک جاری رہے گا، بلکہ یہ ہے کہ کب تک دونوں فریقین اس تصادم کو ایک علاقائی تباہی بننے سے روک پائیں گے۔
