لاہور — لاہور کے علاقے ٹاؤن شپ میں واقع ایک نجی ٹیوشن سینٹر میں بدھ کے روز 10 سالہ بچی کی پراسرار ہلاکت کے بعد سوگوار والد نے واقعے کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے بچی کی موت کو طبعی قرار دینے کے ابتدائی دعووں پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔
بچی ٹیوشن سینٹر کے ایک کمرہ جماعت میں بے ہوش پائی گئی تھی۔ اکیڈمی کے عملے نے اسے فوری طور پر قریبی ہسپتال منتقل کیا، تاہم ڈاکٹروں نے تصدیق کی کہ بچی ہسپتال پہنچنے سے پہلے ہی دم توڑ چکی تھی۔
غم سے نڈھال والد نے ہسپتال کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا، "مجھے فون کر کے بتایا گیا کہ وہ بے ہوش ہوئی ہے۔ جب میں اکیڈمی پہنچا تو صورتحال مختلف تھی۔ میں جاننا چاہتا ہوں کہ بچوں کی نگرانی کا ذمہ دار کون تھا؟ میری بیٹی اچانک کلاس روم میں جا کر سانس لینا بند نہیں کر سکتی۔”
پولیس نے واقعے کے فوری بعد ٹیوشن سینٹر کو سیل کر کے فرانزک شواہد اکٹھے کرنا شروع کر دیے ہیں۔ تفتیشی ٹیمیں عمارت میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج کا جائزہ لے رہی ہیں، تاہم حکام تاحال کسی بھی قسم کی غفلت یا قتل کے پہلو پر کھل کر بات کرنے سے گریزاں ہیں۔
ایک سینئر پولیس افسر کا کہنا ہے کہ "ہم نے اساتذہ اور اکیڈمی انتظامیہ کے بیانات قلمبند کر لیے ہیں۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ ہی اصل وجہ کا تعین کرے گی۔ فی الحال ہم اس معاملے کو ممکنہ غفلت کے زاویے سے دیکھ رہے ہیں۔”
اس واقعے نے مقامی والدین میں شدید غم و غصہ پیدا کر دیا ہے۔ آج صبح بڑی تعداد میں والدین ٹیوشن سینٹر کے باہر جمع ہوئے اور رہائشی علاقوں میں قائم نجی اکیڈمیوں میں طبی سہولیات اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کے ناقص انتظامات پر سوالات اٹھائے۔
متاثرہ خاندان کی نظریں اب پوسٹ مارٹم رپورٹ پر ہیں جو اگلے 24 گھنٹوں میں متوقع ہے۔ بچی کے والد کا کہنا ہے کہ اگر تحقیقات میں اکیڈمی کی جانب سے سیکیورٹی یا طبی امداد میں ذرہ برابر بھی کوتاہی ثابت ہوئی تو وہ قانونی کارروائی سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
"میں نے اسے سیکھنے کے لیے بھیجا تھا، کھونے کے لیے نہیں،” انہوں نے آبدیدہ آنکھوں کے ساتھ کہا۔ "میں اب صرف سچائی کے سامنے آنے کا منتظر ہوں۔”
