مشہور عالمِ دین مفتی تقی عثمانی نے کرپٹو کرنسی کے ذریعے خرید و فروخت اور سرمایہ کاری کو اسلامی قانون کے تحت ناجائز قرار دے دیا ہے۔ ایک تفصیلی فتوے میں انہوں نے واضح کیا ہے کہ ڈیجیٹل اثاثے اسلامی مالیاتی اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتے۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے شریعہ بورڈ کے چیئرمین کی حیثیت سے مفتی تقی عثمانی کا موقف ہے کہ کرپٹو کرنسیوں میں وہ ‘بنیادی قدر’ موجود نہیں جو کسی بھی تبادلے کے ذریعے کے لیے ضروری ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل ٹوکنز مستحکم کرنسی کے بجائے قیاس آرائی اور سٹے بازی کا ذریعہ ہیں، جس کی اسلام میں ممانعت ہے اور اسے ‘میسر’ (جوا) کے زمرے میں رکھا گیا ہے۔
یہ فتویٰ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان کے نوجوان سرمایہ کاروں میں بٹ کوائن اور دیگر ڈیجیٹل اثاثوں کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا تھا۔ جو افراد اپنے مالی معاملات کو مذہبی تعلیمات کے مطابق چلانا چاہتے ہیں، ان کے لیے یہ فتویٰ ایک حتمی فیصلہ ہے۔ مفتی عثمانی کے مطابق، چونکہ ان اثاثوں کی پشت پر نہ تو کوئی حکومت ہے اور نہ ہی کوئی ٹھوس اثاثہ، اس لیے یہ تجارت کے لیے ضروری معیارات پر پورا نہیں اترتے۔
فتویٰ میں کرپٹو مارکیٹ میں پائے جانے والے شدید اتار چڑھاؤ کو بھی بنیاد بنایا گیا ہے۔ مفتی تقی عثمانی کے مطابق، قیمتوں میں غیر معمولی تبدیلی جو معاشی کارکردگی کے بجائے محض مارکیٹ کے قیاس پر مبنی ہو، وہ ‘غرر’ (غیر یقینی صورتحال) پیدا کرتی ہے، جو اسلامی معاہداتی قانون میں ممنوع ہے۔
اگرچہ اس فتوے کا تعلق شرعی احکامات سے ہے، لیکن یہ عالمی مالیاتی نگران اداروں کے خدشات سے بھی مطابقت رکھتا ہے۔ دنیا بھر کے مرکزی بینک بارہا یہ انتباہ کر چکے ہیں کہ کرپٹو پلیٹ فارمز پر صارفین کے تحفظ کا فقدان ہے اور ان کے ذریعے منی لانڈرنگ اور غیر قانونی سرمائے کی منتقلی کا خطرہ موجود رہتا ہے۔
اس فتوے کے باوجود پاکستان میں ڈیجیٹل اثاثوں پر بحث تھمی نہیں۔ جہاں کچھ ٹیکنالوجی ماہرین کا ماننا ہے کہ بلاک چین ٹیکنالوجی مالی شمولیت کا ایک راستہ ہے، وہیں مفتی تقی عثمانی کے اس بیان نے بحث کا رخ دوبارہ ملکی بینکنگ سسٹم کے اخلاقی ڈھانچے کی طرف موڑ دیا ہے۔
سرمایہ کاروں کے لیے پیغام واضح ہے: اس شرعی تشریح کے مطابق ڈیجیٹل سٹے بازی کے ذریعے دولت کمانا نہ صرف مالی اعتبار سے پرخطر ہے بلکہ مذہبی طور پر بھی ممنوع ہے۔ اس فتوے نے ڈیجیٹل کرنسیوں کو مرکزی اسلامی معاشی نظام میں ضم کرنے کے امکانات کو عملی طور پر ختم کر دیا ہے۔
