سویڈن کی اپسالا یونیورسٹی کے محققین نے وقت کی پیمائش کا ایک ایسا طریقہ دریافت کر لیا ہے جس میں کسی روایتی گھڑی یا سیکنڈز کی ٹک ٹک کی ضرورت نہیں پڑتی۔ ماہرین نے ‘ریڈبرگ ایٹمز’ کی کوانٹم حالت کا مشاہدہ کر کے وقت کا تعین کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔
روایتی گھڑیاں ہمیشہ کسی حرکت—جیسے پینڈولم کا جھولنا یا کوارٹز کرسٹل کی تھرتھراہٹ—پر انحصار کرتی ہیں۔ نئی تحقیق نے اس تصور کو بدل دیا ہے۔ محققین نے لیزر کے ذریعے ایٹمز کو انتہائی توانائی والی حالت میں پہنچایا، جس سے وہ ایک منفرد ‘فنگر پرنٹ’ بناتے ہیں۔
یہ ایٹمز جب آپس میں تعامل کرتے ہیں تو ان کے ویو پیکٹس ایک مخصوص مداخلتی نمونہ تشکیل دیتے ہیں۔ محققین نے دیکھا کہ یہ نمونہ ایک مستقل اور پیشگوئی کے قابل رفتار سے تبدیل ہوتا ہے۔ اس نمونے کا نظریاتی ماڈلز سے موازنہ کر کے ٹیم نے یہ معلوم کر لیا کہ ایٹمز کو متحرک کیے جانے کے بعد کتنا وقت گزر چکا ہے۔
اس دریافت کے اثرات کوانٹم کمپیوٹنگ اور ہائی پریسیژن سینسرز کے میدان میں دور رس ثابت ہو سکتے ہیں۔ موجودہ ایٹامک گھڑیاں انتہائی درست تو ہیں، لیکن وہ جسامت میں بڑی ہیں اور انہیں چلانے کے لیے پیچیدہ کولنگ سسٹم درکار ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس، یہ نیا طریقہ چھوٹے اور زیادہ پائیدار سینسرز بنانے کی راہ ہموار کرتا ہے جو ان ماحول میں بھی کام کر سکیں گے جہاں روایتی گھڑیاں ناکام ہو جاتی ہیں۔
پروجیکٹ کی لیڈ فزکسٹ مارٹا برہولٹس کا کہنا ہے کہ "چونکہ ریڈبرگ ایٹمز بیرونی برقی میدانوں کے لیے بہت حساس ہوتے ہیں، ہم انہیں ان میدانوں کی پیمائش کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔” ٹیم کے مطابق، یہ کوانٹم فنگر پرنٹس خود میں ایک مکمل حوالہ رکھتے ہیں، جس کا مطلب ہے کہ اس نظام کو کسی بیرونی ٹائم اسٹینڈرڈ سے کیلیبریٹ کرنے کی ضرورت نہیں رہتی۔
یہ پیش رفت صدیوں پرانی اس سوچ سے ہٹ کر ہے جس میں وقت کو صرف ایک آسکیلیٹر کی حرکت سے جوڑا جاتا تھا۔ اب وقت کو کوانٹم نظام کے ارتقاء کی ایک اندرونی خصوصیت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
اگرچہ یہ ٹیکنالوجی ابھی تجربہ گاہ تک محدود ہے، لیکن کوانٹم مداخلت کے ذریعے وقت کا ٹریک رکھنا اس بات کا ثبوت ہے کہ قدرت کی اپنی ایک لَے ہے۔ اپسالا یونیورسٹی کی ٹیم اب یہ جاننے کی کوشش کر رہی ہے کہ بدلتے ہوئے ماحولیاتی حالات میں یہ پیمائش کتنی درست رہتی ہے—یہ وہ اہم مرحلہ ہے جو ان ‘کوانٹم گھڑیوں’ کو لیب سے باہر حقیقی دنیا میں لانے کے لیے ضروری ہے۔
