لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی (لیسکو) کے ملازمین کو اس ماہ ایک نئے تجربے کا سامنا ہے۔ دہائیوں سے جاری مفت بجلی کی سہولت کا خاتمہ کر دیا گیا ہے اور کمپنی کے عملے کو اب عام صارفین کی طرح بجلی کے بل موصول ہونا شروع ہو گئے ہیں۔
یہ اقدام یوٹیلیٹی کمپنیوں میں ملنے والی ان مراعات کے خاتمے کی جانب ایک بڑا قدم ہے جو طویل عرصے سے عوامی تنقید کا مرکز تھیں۔ ملک کے توانائی کے شعبے میں گردشی قرضوں کے بوجھ اور ترسیلی نقصانات کے پیشِ نظر، وفاقی حکومت نے سرکاری تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) میں مفت بجلی کی سہولت فوری طور پر ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
لیسکو کے ایک درمیانی درجے کے انجینئر کے لیے گھر میں بجلی کا بل موصول ہونا محض ایک کاغذ کا ٹکڑا نہیں، بلکہ یہ پاکستان کے سرکاری اداروں میں کام کرنے کے کلچر میں ایک بڑی تبدیلی ہے۔ برسوں تک مفت یا سبسڈی والی بجلی کو ملازمین کے پیکیج کا ایک غیر اعلانیہ حصہ سمجھا جاتا رہا۔ اب وہی ملازمین اپنی گھریلو کھپت کی اصل قیمت ادا کرنے پر مجبور ہیں۔
یہ فیصلہ پاور ڈویژن اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے دباؤ کے بعد کیا گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ "مفت یونٹس” کی مد میں قومی خزانے کو ہر سال اربوں روپے کا نقصان ہوتا تھا، جو اب سسٹم کی بہتری یا عام صارفین پر ٹیرف کا بوجھ کم کرنے میں استعمال ہو سکیں گے۔
لاہور میں فیلڈ اسٹاف نے تصدیق کی ہے کہ انہیں رواں ہفتے بجلی کے بل موصول ہوئے ہیں۔ اگرچہ وزارتِ توانائی کی جانب سے اس حوالے سے ہدایات متوقع تھیں، تاہم اس پر فوری عمل درآمد نے بہت سے ملازمین کو حیران کر دیا ہے۔ ملازمین کی یونینز نے اس فیصلے کو اپنے معاہدوں کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے تحفظات کا اظہار کیا ہے، لیکن انتظامیہ اپنے موقف پر قائم ہے۔
یہ پالیسی محض اخراجات کم کرنے تک محدود نہیں، بلکہ اس کا مقصد توانائی کے بحران سے دوچار اس شعبے میں عوامی اعتماد بحال کرنا بھی ہے۔ جب عام صارف مہنگی بجلی خریدنے پر مجبور ہو، تو یوٹیلیٹی کمپنیوں کے ملازمین کو حاصل مراعات سماجی انصاف کے منافی سمجھی جاتی ہیں۔ ملازمین کو بل کی ادائیگی کا پابند بنا کر حکومت یہ پیغام دینا چاہتی ہے کہ توانائی کے اس بحران میں کوئی بھی استثنیٰ کا مستحق نہیں ہے۔
ملازمین کی جانب سے اس فیصلے کو قانونی چیلنج کیے جانے کا امکان موجود ہے۔ تاہم فی الحال لیسکو کے دفاتر اور رہائشی کالونیوں میں میٹر چل رہے ہیں اور اب کمپنی کے ملازمین کو اپنی ہر یونٹ کی قیمت ادا کرنا ہوگی۔
