حیدرآباد میں ایک شخص کو پولیس کی وردی پہن کر شہریوں کو ہراساں کرنے اور بھتہ وصول کرنے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ملزم کئی ہفتوں سے خود کو قانون نافذ کرنے والے ادارے کا اہلکار ظاہر کر کے لوگوں کو ڈرا دھمکا رہا تھا۔
پولیس نے بدھ کی شام شہر کے مضافاتی علاقے سے ملزم کو حراست میں لیا۔ تفتیشی حکام کے مطابق، ملحقہ علاقے ملک پیٹ کا رہائشی یہ 34 سالہ شخص مصروف چوراہوں اور رہائشی کالونیوں میں خود کو ٹریفک پولیس کا اہلکار بتا کر گاڑیوں کو روکتا تھا۔
اس کا طریقہ واردات سیدھا اور سادہ تھا۔ وہ شہریوں سے دستاویزات طلب کرتا اور معمولی خلاف ورزیوں کے نام پر بھاری جرمانے وصول کرتا۔ جو لوگ اس کی اتھارٹی پر سوال اٹھاتے، انہیں گرفتاری یا گاڑی ضبط کرنے کی دھمکیاں دی جاتیں۔ بہت سے شہریوں نے جھنجھٹ سے بچنے کے لیے موقع پر ہی نقدی دینا بہتر سمجھا۔
ایک تفتیشی افسر نے بتایا کہ "اس کے پاس وردی، بیلٹ، اور یہاں تک کہ ایک جعلی بیج بھی تھا۔ وہ اتنی مہارت سے اداکاری کرتا تھا کہ کسی کو اس کے شناختی کارڈ مانگنے کا خیال نہیں آیا، جب تک کہ اس نے ناجائز مطالبات شروع نہیں کیے۔”
یہ سلسلہ تب ٹوٹا جب ایک مقامی دکاندار نے ملزم کے جارحانہ رویے اور سرکاری گاڑی کی عدم موجودگی پر شک ظاہر کرتے ہوئے اصل پولیس کو اطلاع دی۔ جب پولیس کی ٹیم موقع پر پہنچی تو ملزم نے فرار ہونے کی کوشش کی مگر اسے قابو کر لیا گیا۔
تلاشی کے دوران پولیس نے ایک جعلی شناختی کارڈ اور بوگس رسیدوں کا ڈھیر برآمد کیا ہے۔ حکام اب اس بات کی تحقیقات کر رہے ہیں کہ ملزم کتنے عرصے سے یہ کھیل کھیل رہا تھا اور اس دوران اس نے کتنے لوگوں کو لوٹا۔
ملزم فی الحال پولیس کی حراست میں ہے۔ حکام نے ان تمام شہریوں سے رابطہ کرنے کی اپیل کی ہے جنہیں اس شخص نے کبھی روکا یا جرمانہ کیا تھا۔ جعلی وردی پہن کر اختیار جتانے والا یہ شخص اب سلاخوں کے پیچھے ہے، جہاں اسے اپنے کیے کی قانونی سزا کا سامنا کرنا پڑے گا۔
