پاکستان میں جمعہ 17 جولائی 2026 کو سونے کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھی گئی۔ عالمی بلین مارکیٹ میں قیمتیں گرنے کے بعد مقامی سطح پر بھی خریداروں اور تاجروں نے نرخوں میں ایڈجسٹمنٹ کی۔ مقامی مارکیٹ، جو عالمی رجحانات اور روپے کی قدر کے اتار چڑھاؤ سے براہِ راست متاثر ہوتی ہے، میں آج سونا سستا ہوا۔
کراچی، لاہور اور اسلام آباد کی صرافہ مارکیٹوں میں 24 قیراط سونے کی فی تولہ قیمت 1800 روپے کی کمی کے بعد 2 لاکھ 62 ہزار 400 روپے پر آ گئی۔ اسی طرح 10 گرام سونے کے نرخ 2 لاکھ 24 ہزار 965 روپے رہے۔
یہ کمی ایک ایسے وقت میں آئی ہے جب گزشتہ چند روز سے قیمتیں ریکارڈ سطح کے قریب تھیں۔ حالیہ تیزی کے دوران سرمایہ کاری کرنے والے اب محتاط رویہ اختیار کر رہے ہیں، کیونکہ عالمی منڈی میں قیمتوں کی درستگی کا عمل جاری ہے۔
لاہور کے ایک سینئر بلین ڈیلر کا کہنا ہے کہ مقامی مارکیٹ صرف عالمی رجحانات کی عکاسی کر رہی ہے۔ جب بین الاقوامی سطح پر قیمتیں تبدیل ہوتی ہیں، تو مقامی مارکیٹ کو بھی اسی کے مطابق چلنا پڑتا ہے۔ فی الحال خریداروں نے "دیکھو اور انتظار کرو” کی پالیسی اپنا رکھی ہے۔
عالمی منڈی میں سونے کی فی اونس قیمت 2420 ڈالر کی سطح سے نیچے آ گئی۔ اس کی بڑی وجہ امریکی ڈالر کی قدر میں معمولی بہتری ہے۔ سرمایہ کار امریکی معاشی اعداد و شمار کے بعد اپنی حکمت عملی تبدیل کر رہے ہیں، کیونکہ فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں فوری کمی کے امکانات کم ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔
پاکستان کے عام خریدار کے لیے قیمتوں میں یہ کمی وقتی ریلیف تو ہے، تاہم جیولرز کا کہنا ہے کہ اس گراوٹ سے مارکیٹ میں خریداروں کا رش نہیں بڑھا۔ مہنگائی اور معاشی دباؤ کے باعث سونا اب بھی بہت سے گھرانوں کی قوتِ خرید سے باہر ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق آئندہ ہفتے سونے کی قیمتوں کا انحصار ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر پر ہوگا۔ اگر روپیہ مستحکم رہتا ہے تو مقامی سطح پر قیمتیں متوازن رہ سکتی ہیں، لیکن کرنسی کی قدر میں کمی کی صورت میں عالمی منڈی میں قیمتیں گرنے کے باوجود مقامی سطح پر سونا مہنگا ہو سکتا ہے۔
فی الحال مارکیٹ میں محتاط فضا برقرار ہے۔ تاجر ڈالر انڈیکس پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، کیونکہ عالمی مالیاتی پالیسی میں کوئی بھی تبدیلی پاکستان کی صرافہ مارکیٹ کے اگلے رخ کا تعین کرے گی۔
