عمان کے محکمہ موسمیات نے منگل کے روز ملک بھر میں شدید گرمی کا الرٹ جاری کر دیا ہے، جہاں درجہ حرارت 47 ڈگری سینٹی گریڈ (116.6 ڈگری فارن ہائیٹ) تک پہنچ چکا ہے۔ شدید گرمی کے پیشِ نظر حکام نے دوپہر کے اوقات میں بیرونی کاموں پر پابندی عائد کر دی ہے تاکہ کارکنوں کو ہیٹ اسٹروک اور پانی کی کمی جیسے خطرات سے محفوظ رکھا جا سکے۔
سول ایوی ایشن اتھارٹی نے تصدیق کی ہے کہ جزیرہ نما عرب پر قائم ‘تھرمل ڈوم’ (حرارتی غلاف) کا اثر ہفتے کے آخر تک برقرار رہنے کا امکان ہے۔ ساحلی علاقوں میں نمی کے باعث درجہ حرارت میں معمولی فرق ہے، لیکن اندرونی صحرائی علاقوں اور الجبل الاخضر کے پہاڑی سلسلوں میں گرمی کی شدت زیادہ محسوس کی جا رہی ہے۔
وزارتِ محنت نے دوپہر کے اوقات میں کام پر پابندی کا نفاذ سخت کر دیا ہے۔ تعمیراتی اور بیرونی صنعتی مقامات پر دوپہر ساڑھے بارہ بجے سے سہ پہر ساڑھے تین بجے تک کام مکمل طور پر بند رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ یہ صرف ایک ضابطہ اخلاق نہیں، بلکہ مسقط کے ہسپتالوں میں پانی کی کمی اور ہیٹ اسٹروک کے مریضوں کی تعداد میں اضافے کے بعد ایک ہنگامی ضرورت بن چکا ہے۔
ایک مقامی ماہرِ موسمیات کا کہنا ہے کہ "ہم گرمی کی شدت میں ایک نیا رجحان دیکھ رہے ہیں۔ تشویش صرف دن کا زیادہ درجہ حرارت نہیں، بلکہ رات کے اوقات میں ٹھنڈک کا نہ ہونا ہے۔ شہری مراکز میں موجود کنکریٹ اور عمارتیں گرمی کو جذب کر لیتی ہیں، جس کی وجہ سے آدھی رات کے بعد بھی درجہ حرارت 35 ڈگری سینٹی گریڈ سے نیچے نہیں آ رہا۔”
عام شہریوں کے لیے حکومتی مشورہ سادہ اور واضح ہے: گھروں کے اندر رہیں۔ قومی ہنگامی رسپانس ٹیموں نے عوامی مقامات پر کولنگ پوائنٹس قائم کر دیے ہیں، جبکہ وزارتِ صحت نے براہِ راست دھوپ سے بچنے کے لیے آگاہی مہم شروع کر دی ہے۔
یہ گرمی کی لہر ایسے وقت میں آئی ہے جب عمان موسمیاتی تبدیلیوں کے گہرے اثرات کا سامنا کر رہا ہے۔ سائنسدانوں کے مطابق خلیجی خطے میں شدید موسم کے دورانیے میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ماضی میں اس طرح کی شدید گرمی عام طور پر جون کے آخر یا جولائی میں دیکھنے میں آتی تھی، لیکن اس سال قبل از وقت آنے والی گرمی نے معمولاتِ زندگی کو متاثر کر دیا ہے۔
سورج غروب ہونے کے بعد بھی شہریوں کو گرمی سے خاص راحت ملنے کے آثار نہیں ہیں۔ ہائی پریشر سسٹم کے خاتمے تک سلطنتِ عمان میں ہنگامی حالت برقرار رہے گی اور شہری موسم کے بدلنے کے منتظر ہیں۔
