نئی طبی تحقیق کے مطابق، 60 سال سے زائد عمر کے افراد کا معمول سے زیادہ سونا یعنی نو گھنٹے سے زائد نیند لینا، الزائمر (دماغی تنزلی) کی ابتدائی علامت ہو سکتا ہے۔
طبی ماہرین طویل عرصے سے نیند کی کمی کو دماغی مسائل سے جوڑتے آئے ہیں، لیکن حالیہ تحقیق نے اس تاثر کو بدل دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بہت زیادہ سونا عمر رسیدگی کا فطری عمل نہیں، بلکہ یہ دماغی صحت میں آنے والی کسی خرابی کا اشارہ ہو سکتا ہے۔ تحقیق کے مطابق، جو بزرگ مسلسل طویل نیند لیتے ہیں، ان میں ڈیمنشیا کا خطرہ ان افراد کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ پایا گیا جو سات سے آٹھ گھنٹے کی متوازن نیند لیتے ہیں۔
یہ نتائج اس عام خیال کو چیلنج کرتے ہیں کہ زیادہ سونا ہر صورت میں صحت کے لیے مفید ہے۔ درحقیقت، ماہرین اسے نیند اور دماغی صحت کے درمیان ایک "یو-شیپ” تعلق قرار دے رہے ہیں۔ یعنی بہت کم نیند اور بہت زیادہ نیند، دونوں ہی دماغ کے لیے نقصان دہ ہیں۔ زیادہ سونا دماغ کی ان زہریلی پروٹینز کو صاف کرنے کی صلاحیت کو متاثر کرتا ہے، جو الزائمر کی بنیادی وجہ بنتی ہیں۔
تحقیقی ٹیم کی سربراہ ڈاکٹر ایلینا روسی کا کہنا ہے، "یہ صرف تھکاوٹ کا معاملہ نہیں ہے۔ جب ہم بزرگ مریضوں میں نیند کے دورانیے میں اچانک اور مستقل اضافہ دیکھتے ہیں، تو اکثر یہ اس بات کی علامت ہوتی ہے کہ دماغ کسی اندرونی میٹابولک یا اعصابی دباؤ سے نبردآزما ہے۔”
یہ اعداد و شمار پانچ سالہ طویل مطالعے سے اخذ کیے گئے ہیں جس میں 3,000 سے زائد افراد شامل تھے۔ جن شرکاء نے اپنے معمول کی نیند کو نو گھنٹے یا اس سے زائد تک بڑھایا، ان میں پانچ سال کے دوران علمی صلاحیتوں میں 25 فیصد کمی دیکھی گئی۔
تحقیق کاروں نے اس بات کو یقینی بنایا کہ اس میں ڈپریشن یا دل کی بیماریوں جیسے عوامل کو الگ رکھا جائے، جو اکثر سستی یا زیادہ نیند کا باعث بنتے ہیں۔ ان تمام عوامل کو نکالنے کے باوجود، طویل نیند اور دماغی تنزلی کے درمیان تعلق اپنی جگہ برقرار رہا۔
اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ ہر وہ شخص جو لمبی نیند لیتا ہے وہ خطرے میں ہے۔ اصل تشویش ان افراد کے لیے ہے جن کی عادات میں *تبدیلی* آتی ہے۔ اگر ایک 65 سالہ فعال شخص اچانک روزانہ 10 گھنٹے سونے لگے، تو یہ ایک "ریڈ فلیگ” یا خطرے کی گھنٹی ہے۔
خاندانوں کے لیے مشورہ یہ ہے کہ وہ بزرگوں کی نیند کے معمولات پر نظر رکھیں۔ اگر کسی قریبی فرد کی نیند کا دورانیہ چند ماہ کے اندر نمایاں طور پر بڑھ جائے، تو اسے نظر انداز کرنے کے بجائے کسی ماہرِ اعصاب سے مشورہ کرنا چاہیے۔ الزائمر کے علاج میں ابتدائی تشخیص سب سے اہم ہے، اور نیند کا دورانیہ اس تشخیص کا ایک سادہ مگر طاقتور ذریعہ ثابت ہو سکتا ہے۔
