پیرو کے جنوبی علاقے اریقیپا میں اتوار کی صبح آنے والے شدید زلزلے نے تباہی مچا دی۔ 7.0 شدت کے اس زلزلے کے نتیجے میں کم از کم 6 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے ہیں۔ زلزلے کا مرکز ساحلی قصبے یاوکا کے قریب تھا، جس کی گہرائی محض 8 کلومیٹر ریکارڈ کی گئی، یہی وجہ ہے کہ زمین کی سطح پر اس کے اثرات انتہائی تباہ کن ثابت ہوئے۔
زلزلے کے جھٹکوں نے کاراویلی صوبے کے پہاڑی دیہاتوں کو ملبے کے ڈھیر میں تبدیل کر دیا۔ حکام کو خدشہ ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے کیونکہ امدادی ٹیمیں دور دراز علاقوں تک پہنچنے کی کوشش کر رہی ہیں جہاں راستے بند ہونے کے باعث رابطہ منقطع ہو چکا ہے۔
علاقائی گورنر روہیل سانچیز نے میڈیا بریفنگ میں کہا کہ "ہم ابھی تک نقصان کا مکمل جائزہ لے رہے ہیں۔ ہماری اولین ترجیح طبی سامان اور بھاری مشینری کو متاثرہ علاقوں تک پہنچانا ہے تاکہ ریسکیو آپریشن میں تیزی لائی جا سکے۔”
سول ڈیفنس ایجنسی کی ابتدائی رپورٹس کے مطابق کم از کم 60 مکانات مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں، جس کے نتیجے میں سیکڑوں افراد کھلے آسمان تلے آنے پر مجبور ہیں۔ زلزلے کے بعد آنے والے آفٹر شاکس کے خوف سے متاثرین اپنے گھروں میں واپس جانے سے گریز کر رہے ہیں۔
زلزلے کی کم گہرائی نے کچی اینٹوں سے بنے پرانے مکانات کو شدید نقصان پہنچایا۔ کاراویلی میں بجلی کا نظام درہم برہم ہو گیا ہے، جس سے امدادی کاموں میں مزید مشکلات پیش آ رہی ہیں۔
پیرو ‘رنگ آف فائر’ نامی ایک فعال ٹیکٹونک بیلٹ پر واقع ہے، جہاں زلزلہ آنا معمول کی بات ہے۔ بڑے شہروں میں تعمیراتی ضوابط پر سختی سے عمل کیا جاتا ہے، تاہم اریقیپا جیسے دیہی علاقوں میں روایتی تعمیراتی طریقے استعمال کیے جاتے ہیں جو ایسے شدید زلزلوں کے سامنے ریت کی دیوار ثابت ہوتے ہیں۔
جیسے جیسے رات گہری ہو رہی ہے، امدادی کارروائیوں کا رخ تلاش و بچاؤ سے بنیادی ضروریات کی فراہمی کی جانب منتقل ہو رہا ہے۔ پہاڑی علاقے میں درجہ حرارت گرنے کے باعث امدادی تنظیمیں متاثرین کے لیے خیمے اور کمبل پہنچانے کی کوشش کر رہی ہیں۔
اریقیپا کے مکینوں کے لیے بحالی کا سفر طویل ہوگا، لیکن اس وقت سب سے بڑا چیلنج ملبے تلے دبے ان افراد کی تلاش ہے جن کا ابھی تک کوئی سراغ نہیں مل سکا۔
