گھارو پولیس نے منگل کے روز آٹھ سالہ اذان کو ایک کامیاب کارروائی کے بعد بازیاب کروا لیا۔ بچہ تین روز قبل اپنے گھر کے قریب سے لاپتہ ہوا تھا، جس کے بعد سے علاقے میں شدید تشویش پائی جا رہی تھی۔
پولیس نے خفیہ اطلاع پر گھارو کے مضافاتی علاقے میں واقع ایک مکان پر چھاپہ مارا۔ کارروائی کے دوران بچہ بازیاب کر لیا گیا، جو بظاہر خیریت سے ہے تاہم صدمے کی کیفیت میں ہے۔
واقعہ اتوار کی سہ پہر پیش آیا تھا جب اذان گھر کے باہر کھیل رہا تھا۔ اغوا کے خلاف پیر کے روز اہل علاقہ نے مرکزی شاہراہ بلاک کر کے احتجاج کیا تھا اور حکومت سے فوری بازیابی کا مطالبہ کیا تھا۔
آپریشن میں حصہ لینے والے ایک پولیس افسر نے بتایا کہ ملزمان کا سراغ موبائل سگنلز اور مقامی مخبروں کی مدد سے لگایا گیا۔ چھاپے کے دوران ایک ملزم کو موقع پر ہی گرفتار کر لیا گیا، جبکہ دو ساتھی اندھیرے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔
ابتدائی تفتیش یہ واضح کرنے کی کوشش کر رہی ہے کہ آیا یہ اغوا ذاتی دشمنی کا نتیجہ تھا یا اس کے پیچھے تاوان کا مطالبہ کارفرما تھا۔ بازیابی تک بچے کے اہل خانہ کو کسی قسم کی تاوان کی کال موصول نہیں ہوئی تھی، جس نے ان کی بے چینی میں مزید اضافہ کر رکھا تھا۔
منگل کی شب اذان اپنے والدین کے سپرد کر دیا گیا۔ بازیابی کے باوجود مقامی شہریوں نے علاقے میں پولیس گشت نہ ہونے پر سوالات اٹھائے ہیں۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزم سے تفتیش جاری ہے، جس سے فرار ہونے والے ساتھیوں کے بارے میں اہم سراغ ملنے کی توقع ہے۔ فی الحال پولیس کی توجہ اس بات پر ہے کہ ایک معصوم بچے کو کس مقصد کے لیے اغوا کیا گیا اور اس نیٹ ورک میں کون کون شامل ہے۔
