پشاور — خیبر پختونخوا میں گزشتہ 72 گھنٹوں کے دوران مون سون کی شدید بارشوں نے تباہی مچا دی، جس کے نتیجے میں کم از کم 12 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ محکمہ موسمیات کی جانب سے ملک گیر سیلابی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔
زیادہ تر ہلاکتیں مکانات کی چھتیں گرنے اور اچانک سیلابی ریلوں میں بہہ جانے کے باعث ہوئیں۔ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کے مطابق ہلاکتیں بنیادی طور پر شمالی اضلاع میں ہوئیں، جہاں کا جغرافیہ اور کمزور انفراسٹرکچر اچانک موسمی تبدیلیوں کے سامنے غیر محفوظ ہے۔ دیہی علاقوں میں متاثرہ خاندان ملبے تلے دبے اپنے پیاروں کو نکالنے میں مصروف ہیں، جبکہ امدادی ٹیموں کو دور دراز پہاڑی دیہات تک پہنچنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
صوبائی حکومت نے سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں ہنگامی صورتحال کا اعلان کر دیا ہے۔ مسلسل بارشوں کے باعث ہیلی کاپٹروں کی پروازیں ممکن نہیں، جس کی وجہ سے امدادی کاموں کا سارا بوجھ زمینی ٹیموں پر ہے۔
پی ڈی ایم اے کے ترجمان کا کہنا ہے کہ "ہم ایک ایسے بحران سے نمٹ رہے ہیں جس کی شدت ہر گھنٹے بڑھ رہی ہے۔ ہماری پہلی ترجیح بند راستوں کو کھولنا ہے تاکہ متاثرین تک خوراک اور ادویات پہنچائی جا سکیں۔”
نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے الرٹ کا دائرہ کار پورے ملک تک بڑھا دیا ہے۔ ماہرینِ موسمیات کے مطابق بارشوں کا ایک نیا اور شدید سلسلہ اگلے 48 گھنٹوں کے دوران وسطی اور جنوبی علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔ دریاؤں میں پانی کی سطح بلند ہونے کا خدشہ ہے، جبکہ تربیلا اور منگلا ڈیموں میں پانی کے ذخائر پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے۔
اموات کی تعداد میں اضافے کا خدشہ بدستور برقرار ہے۔ سیلابی پانی کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کے پیشِ نظر طبی ٹیمیں ریلیف کیمپوں میں تعینات کر دی گئی ہیں تاکہ وبائی امراض کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔
شمالی علاقوں کے مکینوں کے لیے ماضی کے تباہ کن سیلابوں کے زخم ابھی تازہ ہیں۔ آسمان پر چھائے بادلوں کے درمیان سوال یہ نہیں کہ امدادی کارروائیاں کب تک جاری رہیں گی، بلکہ یہ ہے کہ ملک کا فرسودہ نکاسی آب اور پیشگی وارننگ کا نظام اس سال کے بے ہنگم مون سون کے سامنے کب تک ٹھہر سکے گا۔
