لاہور — وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے سائبر کرائم ونگ نے جمعرات کو لاہور میں ایک بڑی کارروائی کے دوران 12 رکنی ہیکنگ گروہ کو گرفتار کر لیا۔ ملزمان پر بڑے پیمانے پر مالیاتی فراڈ اور شہریوں کا ڈیٹا چوری کرنے کا الزام ہے۔
ایف آئی اے کی ٹیم نے جوہر ٹاؤن کے ایک رہائشی مکان پر چھاپہ مارا، جہاں سے جدید لیپ ٹاپس، موبائل فونز اور انکرپٹڈ ہارڈویئر والٹس برآمد کیے گئے۔ ابتدائی تفتیش کے مطابق یہ گروہ گزشتہ دو برسوں سے ملک بھر کے شہریوں کے بینک اکاؤنٹس سے رقوم کی غیر قانونی منتقلی میں ملوث تھا۔
ملزمان کا طریقہ واردات انتہائی منظم تھا۔ یہ گروہ جعلی ویب سائٹس اور فشنگ لنکس کا سہارا لے کر بینک صارفین کو اپنا شکار بناتا تھا۔ متاثرہ افراد جیسے ہی اپنے کریڈنشلز درج کرتے، گروہ چند منٹوں میں اکاؤنٹ خالی کر دیتا۔ چوری شدہ رقم کو ٹریس ہونے سے بچانے کے لیے مختلف آف شور ڈیجیٹل والٹس کے ذریعے منتقل کیا جاتا تھا۔
ایف آئی اے کے ایک اعلیٰ افسر نے میڈیا کو بتایا کہ "یہ ملزمان محض شوقیہ ہیکرز نہیں تھے۔ انہوں نے جدید سافٹ ویئر کا استعمال کر رکھا تھا جس کی وجہ سے حملوں کا سراغ لگانا ناممکن حد تک مشکل تھا، تاہم اس ہفتے ایک مخصوص ڈیٹا پیکٹ کو انٹرسیپٹ کرنے کے بعد ہم ان تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے۔”
ایجنسی نے اس گروہ کی نگرانی تین ماہ قبل شروع کی تھی، جب پنجاب میں بینک صارفین کی جانب سے فراڈ کی شکایات میں اچانک اضافہ دیکھنے میں آیا۔ یہ سراغ بالآخر شہر کے ایک عام سے نظر آنے والے گھر تک پہنچا، جہاں سے یہ گروہ 24 گھنٹے اپنا نیٹ ورک چلا رہا تھا۔
فی الحال ایف آئی اے زیر حراست ملزمان سے تفتیش کر رہی ہے اور بین الاقوامی سائبر کرائم نیٹ ورکس سے ان کے ممکنہ روابط کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔ تفتیشی حکام کو شبہ ہے کہ چوری شدہ رقم کا ایک بڑا حصہ کرپٹو کرنسی میں تبدیل کر کے ملک سے باہر منتقل کیا جاتا رہا۔
ملزمان کو کل مقامی مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا جائے گا جہاں ان پر پریونشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ کے تحت فرد جرم عائد کی جائے گی۔
ایف آئی اے نے خبردار کیا ہے کہ یہ گرفتاریاں ایک وسیع مہم کا آغاز ہیں۔ برآمد شدہ ہارڈویئر سے ہزاروں شہریوں کا ذاتی ڈیٹا ملا ہے، اور ایجنسی نے اب متاثرہ بینکوں اور شہریوں سے رابطے کا عمل شروع کر دیا ہے تاکہ انہیں نقصان سے بچایا جا سکے۔
