نئی دہلی — امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان فوجی تصادم کے بعد ‘اسٹریٹ آف ہارمز’ (آبنائے ہرمز) کے راستے سپلائی معطل ہونے کے باعث رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی (اپریل تا جون) کے دوران بھارت کی مشرقِ وسطیٰ سے تیل کی درآمدات میں 27 فیصد کی بڑی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ سرکاری اور صنعتی ذرائع سے حاصل ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق، مشرقِ وسطیٰ سے سپلائی کم ہو کر 1.55 ملین بیرل روزانہ رہ گئی ہے۔ اس بڑے بحران اور کمی کو پورا کرنے کے لیے بھارتی ریفائنریز نے روس اور لاطینی امریکی ممالک کا رخ کیا ہے، جس کے بعد روس سمیت دیگر خودمختار ریاستوں (CIS) سے تیل کی برآمدات 8.3 فیصد اضافے کے ساتھ 2.26 ملین بیرل روزانہ تک پہنچ گئی ہیں۔
امریکی پابندیوں کے خوف سے ماضی میں روس سے تیل کی خریداری کم کرنے والے بھارت نے واشنگٹن کی طرف سے ملنے والی عارضی چھوٹ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے گزشتہ ماہ روس سے ریکارڈ 2.64 ملین بیرل روزانہ تیل درآمد کیا، جو مئی کے مقابلے میں 37.4 فیصد زیادہ ہے۔ یہ مقدار جون میں بھارت کی مجموعی درآمدات (5.24 ملین بیرل روزانہ) کا نصف یعنی 50 فیصد بنتی ہے۔ اس بڑی تبدیلی کے بعد بھارتی مارکیٹ میں روسی تیل کا حصہ بڑھ کر 41 فیصد ہو گیا ہے جبکہ مشرقِ وسطیٰ کا حصہ 41.4 فیصد سے گھٹ کر محض 31 فیصد رہ گیا ہے۔ جولائی کے اوائل میں امریکہ اور ایران کے درمیان عارضی جنگ بندی ختم ہونے اور واشنگٹن کی طرف سے پابندیوں میں چھوٹ واپس لیے جانے کے باوجود، بھارتی کمپنیاں ان روسی اداروں سے تیل خرید رہی ہیں جو براہِ راست پابندیوں کی زد میں نہیں ہیں۔ بھارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز میں کشیدگی برقرار رہی تو انہیں سعودی عرب سے آنے والے تیل کو ‘کیپ آف گُڈ ہوپ’ (افریقہ کے طویل سمندری راستے) سے منگوانا پڑے گا، جس سے تیل کی مالیت اور کرائے کے اخراجات میں شدید اضافہ ہو سکتا ہے۔
