کراچی کے پوش علاقے ڈی ایچ اے میں فوڈ ڈلیوری رائیڈر پر تشدد کرنے والے شخص کو پولیس نے بدھ کی رات حراست میں لے لیا۔
ملزم کی شناخت اس ویڈیو کے ذریعے کی گئی جو گزشتہ 48 گھنٹوں سے سوشل میڈیا پر وائرل تھی۔ پولیس نے درخشاں تھانے میں درج مقدمے کے بعد کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو گرفتار کیا۔ ابتدائی تفتیش کے مطابق، جھگڑا ٹریفک کے ایک معمولی معاملے پر شروع ہوا، جو دیکھتے ہی دیکھتے ہاتھا پائی میں بدل گیا۔
وائرل فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ملزم گاڑی سے اتر کر رائیڈر پر مسلسل تشدد کر رہا ہے، جبکہ ارد گرد موجود لوگ خاموش تماشائی بنے رہے۔ اس واقعے نے شہریوں اور لیبر حقوق کے کارکنوں میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑا دی ہے، جو شہر کی سڑکوں پر بااثر افراد کی جانب سے قانون کو ہاتھ میں لینے کے بڑھتے ہوئے رجحان پر سراپا احتجاج ہیں۔
پولیس حکام نے ملزم کی گرفتاری کی تصدیق کی ہے، تاہم اب تک دفعات کی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ ملزم پر حملہ اور دھمکانے سے متعلق تعزیراتِ پاکستان کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ چلایا جائے گا۔
متاثرہ رائیڈر، جو ایک نجی فوڈ ڈلیوری کمپنی کے لیے کام کرتا ہے، نے تفتیشی حکام کو بتایا کہ وہ اپنی ڈیوٹی پر تھا جب اسے بلاوجہ نشانہ بنایا گیا۔ کمپنی نے اپنے بیان میں رائیڈر کو ہر ممکن قانونی مدد فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے۔
کراچی میں سڑکوں پر تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے، جس کے بعد پولیس نے مصروف کاروباری مراکز میں نگرانی بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ صرف وائرل ویڈیوز پر کارروائی کافی نہیں؛ سڑکوں پر امن کے لیے مستقل قانون نافذ کرنے والے اداروں کی موجودگی اور یکساں احتساب ناگزیر ہے۔
ملزم اس وقت پولیس کی حراست میں ہے اور اسے جمعرات کی صبح عدالت میں پیش کیا جائے گا۔
