واشنگٹن ڈی سی – 23 جولائی 2026: امریکی ایوانِ نمائندگان (ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز) نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے اختیارات محدود کرنے کے حق میں ایک اہم قرارداد منظور کر لی ہے۔ جنگ بندی کے خاتمے کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب ایوان نے اس نوعیت کا اقدام اٹھایا ہے۔
قرارداد 214 کے مقابلے میں 208 ووٹوں سے منظور ہوئی۔ تمام ڈیموکریٹ ارکان کے علاوہ چار ریپبلکن اراکین نے بھی اس کی حمایت کی۔ اس قرارداد کے تحت صدر کو ہدایت دی گئی ہے کہ کانگریس کی واضح منظوری کے بغیر ایران کے خلاف مزید فوجی کارروائی نہ کی جائے۔
اگرچہ اس قرارداد کی منظوری کو ایک اہم سیاسی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، لیکن اس کے قانون بننے کے امکانات کم ہیں کیونکہ اسے سینیٹ سے بھی منظور ہونا ہوگا، جبکہ صدر اسے ویٹو بھی کر سکتے ہیں۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ جنگ بندی ٹوٹنے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے۔ حالیہ فضائی حملوں اور جوابی کارروائیوں نے مشرقِ وسطیٰ میں وسیع جنگ کے خدشات کو بڑھا دیا ہے، جبکہ عالمی تیل کی رسد اور آبنائے ہرمز کی سلامتی کے حوالے سے بھی تشویش میں اضافہ ہوا ہے۔
قرارداد کے حامی ارکان کا کہنا تھا کہ امریکی آئین کے مطابق جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار کانگریس کے پاس ہے، اس لیے ایران کے خلاف کسی بھی طویل فوجی کارروائی کا فیصلہ بھی منتخب نمائندوں کی منظوری سے ہونا چاہیے۔ ان کا مؤقف تھا کہ جنگ کے ممکنہ مالی، انسانی اور سفارتی نتائج پر کانگریس کو فیصلہ کن کردار ادا کرنا چاہیے۔
دوسری جانب ریپبلکن قیادت نے قرارداد کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ صدر کو قومی سلامتی کے تحفظ اور ایران سے درپیش خطرات کا فوری جواب دینے کے لیے مکمل اختیارات حاصل ہونے چاہییں۔ ان کے مطابق ایسے اقدامات امریکی فوج کی کارروائیوں کو محدود کر سکتے ہیں اور دشمن کو فائدہ پہنچا سکتے ہیں۔
ادھر امریکی سینیٹ میں اسی نوعیت کی ایک قرارداد مطلوبہ حمایت حاصل نہ کر سکی، جس کے باعث صدر ٹرمپ کے فوجی اختیارات بدستور برقرار ہیں۔ تاہم، ایوانِ نمائندگان کا یہ ووٹ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ کانگریس میں ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائی پر اختلافات بڑھ رہے ہیں اور امریکی کردار پر مزید بحث متوقع ہے۔
