ٹانک — خیبر پختونخوا کے ضلع ٹانک میں ایک مشترکہ پولیس اور سیکیورٹی چیک پوسٹ پر دہشت گردوں کے بزدلانہ حملے کے نتیجے میں 12 فوجی جوانوں اور 2 پولیس اہلکاروں سمیت 15 افراد شہید ہو گئے ہیں۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (ISPR) کے مطابق یہ حملہ علی الصبح ممنوعہ تنظیم تحریک طالبان پاکستان (جسے سرکاری طور پر فتنہ الخوارج کا نام دیا گیا ہے) کی جانب سے کیا گیا۔ دہشت گردوں نے پہلے چیک پوسٹ کے احاطے میں گھسنے کی کوشش کی جسے وہاں تعینات سیکیورٹی اہلکاروں نے جوانمردی سے ناکام بناتے ہوئے 15 دہشت گردوں کو جہنم واصل کر دیا۔ تاہم، لڑائی کے دوران حملہ آوروں نے بارود سے بھری ایک گاڑی چیک پوسٹ کی بیرونی دیوار سے ٹکرا دی، جس کے شدید دھماکے سے عمارت کو شدید نقصان پہنچا اور وہاں موجود سیکیورٹی کے 14 اہلکار اور محکمہ جنگلات کا ایک سرکاری ملازم شہید ہو گئے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق علاقے میں روپوش دیگر دہشت گردوں کی تلاش کے لیے کلیئرنس اور سرچ آپریشن جاری ہے۔ پاک فوج نے عزم کا اظہار کیا ہے کہ قومی ایکشن پلان کی ایپیکس کمیٹی کے منظور کردہ وژن ‘عزمِ استحکام’ کے تحت ملک سے بیرونی پشت پناہی سے چلنے والی دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک کارروائیاں پوری قوت سے جاری رہیں گی۔ واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات میں تیزی دیکھی گئی ہے۔ گزشتہ ہفتے ہی بنوں اور اس کے گردونواح میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران 24 دہشت گرد مارے گئے تھے، جبکہ مئی میں بھی بنوں کی فاتح خیل پوسٹ پر اسی طرح کا ایک کار بم حملہ کیا گیا تھا۔ سینٹر فار ریسرچ اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز (CRSS) کی رپورٹ کے مطابق صوبے میں بدامنی کے باعث ہلاکتوں کی تعداد 2024 میں 1,620 سے بڑھ کر 2025 میں 2,331 تک پہنچ گئی تھی، جس کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے انسدادِ دہشت گردی کی مہم کو مزید تیز کر دیا ہے۔
