سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کابینہ سیکرٹریٹ نے وفاقی حکومت کے اس حالیہ فیصلے پر سخت اعتراض اٹھایا ہے جس کے تحت اٹھارویں ترمیم کے بعد تحلیل کی گئی وزارتوں کو دوبارہ بحال کیا جا رہا ہے۔ سینیٹرز نے اس اقدام کی آئینی حیثیت اور ملکی خزانے پر پڑنے والے بوجھ پر گہرے سوالات اٹھاتے ہوئے اسے صوبائی خودمختاری کو محدود کرنے کی کوشش قرار دیا ہے۔
منگل کو ہونے والے اجلاس کے دوران کمیٹی کے ارکان نے حکومتی حکام سے استفسار کیا کہ جن شعبوں کو قانونی طور پر صوبوں کے حوالے کیا جا چکا ہے، وفاق انہیں دوبارہ اپنے کنٹرول میں کیوں لے رہا ہے؟ کمیٹی کی صدارت کرنے والے سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے دو ٹوک الفاظ میں پوچھا کہ کیا ان وزارتوں کو دوبارہ قائم کرنے سے قبل کسی قسم کا قانونی آڈٹ کیا گیا تھا؟ اس سوال کا جواب حکومتی نمائندوں کے پاس موجود نہیں تھا۔
سنہ 2010 میں منظور ہونے والی اٹھارویں ترمیم کا بنیادی مقصد وفاقی دائرہ کار کو محدود کرنا اور تعلیم، صحت اور زراعت جیسے اہم شعبوں کو صوبوں کے حوالے کرنا تھا۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ موجودہ حکومت کی جانب سے دوبارہ مرکزیت کی طرف واپسی، اس تاریخی قانون کی روح کے منافی ہے۔
مالیاتی بحران کے اس دور میں، جہاں حکومت ٹیکس اہداف کے حصول میں مشکلات کا شکار ہے، کمیٹی ارکان نے نئی انتظامی تہیں بنانے کے جواز پر سوال اٹھائے۔ سینیٹرز نے نشاندہی کی کہ ان بحال شدہ وزارتوں کے دفاتر، عملے اور دیگر اخراجات پر کروڑوں روپے ضائع ہوں گے، جبکہ یہ فنڈز قرضوں کی ادائیگی یا عوامی فلاح کے منصوبوں پر خرچ کیے جا سکتے تھے۔
کابینہ ڈویژن کے حکام نے اپنے دفاع میں کہا کہ یہ عمل "وفاقی نگرانی اور ہم آہنگی” کو بہتر بنانے کے لیے ضروری ہے۔ ان کا موقف تھا کہ ان اداروں کے بغیر وفاقی حکومت قومی پالیسیوں کے نفاذ اور بین الاقوامی وعدوں کو پورا کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔
تاہم کمیٹی ارکان نے اس وضاحت کو مسترد کر دیا۔ ایک سینیٹر نے طنزیہ انداز میں کہا کہ "ہم آہنگی” کا نام لے کر وفاقی بیوروکریسی میں توسیع کی جا رہی ہے۔ کمیٹی نے حکومت کو حکم دیا کہ وہ اگلی میٹنگ تک ان وزارتوں کے قیام سے پڑنے والے مالی بوجھ کی تفصیلات پیش کرے اور یہ ثابت کرے کہ یہ ادارے محض سیاسی نوازشات نہیں بلکہ ملکی ضرورت ہیں۔
اس معاملے پر آئینی کشمکش شدت اختیار کرنے کا امکان ہے۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر وفاقی حکومت نے صوبائی اختیارات پر قبضہ جاری رکھا، تو یہ صوبائی حکومتوں کے ساتھ براہِ راست تصادم کا باعث بن سکتا ہے۔ سینیٹ کمیٹی نے اٹارنی جنرل آفس سے بھی رائے مانگ لی ہے کہ آیا انتظامی تبدیلیوں کے ذریعے آئینی تقاضوں کو نظر انداز کرنا ممکن ہے یا نہیں۔
فی الحال یہ وزارتیں کام کر رہی ہیں، لیکن پارلیمانی کمیٹی کی جانب سے احتساب کے مطالبے نے حکومت کے اس منصوبے کو دفاعی پوزیشن پر لا کھڑا کیا ہے۔ اصل سوال صرف انتظامی کارکردگی کا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ کیا وفاقی حکومت ایک دہائی پرانے آئینی معاہدے کو کسی باضابطہ ترمیم کے بغیر ختم کر سکتی ہے؟
