امریکا نے غیر ملکی سائبر مجرموں کے خلاف نئی ویزا پابندیوں کی پالیسی کا اعلان کر دیا ہے۔ اس پالیسی کے تحت بعض معاملات میں سائبر جرائم میں ملوث افراد کے قریبی اہل خانہ کو بھی ویزا پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
نئی پالیسی کا مقصد ایسے افراد کے خلاف کارروائی کرنا ہے جو سنگین سائبر جرائم، سائبر حملوں، رینسم ویئر آپریشنز، آن لائن فراڈ اور دیگر نقصان دہ ڈیجیٹل سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔
امریکی حکام کے مطابق سائبر جرائم سے امریکی قومی سلامتی، کاروباری اداروں اور عام شہریوں کو بڑھتے ہوئے خطرات کا سامنا ہے۔ اسی لیے واشنگٹن نے ایسے جرائم میں ملوث افراد کے خلاف ویزا پابندیوں سمیت مختلف اقدامات کو مزید سخت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
امریکا کی جانب سے ویزا پابندیوں کا استعمال ایسے سائبر مجرموں پر دباؤ بڑھانے کے لیے کیا جا رہا ہے جو بیرون ملک رہتے ہوئے امریکی شہریوں، کمپنیوں اور اداروں کو نشانہ بناتے ہیں۔
یہ پالیسی سائبر جرائم کی بڑھتی ہوئی بین الاقوامی نوعیت کو بھی ظاہر کرتی ہے۔ سائبر جرائم پیشہ گروہ مختلف ممالک میں بیٹھ کر دنیا بھر کے افراد اور اداروں کو نشانہ بنا سکتے ہیں، جس کے باعث عالمی سطح پر تعاون اور مشترکہ کارروائی کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔
امریکی حکومت نے واضح کیا ہے کہ نقصان دہ سائبر سرگرمیوں میں ملوث افراد کو صرف فوجداری تحقیقات ہی نہیں بلکہ سفری پابندیوں اور دیگر حکومتی اقدامات کا بھی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق نئی پالیسی کا مقصد سائبر جرائم کے بین الاقوامی نیٹ ورکس کو محدود کرنا اور غیر ملکی عناصر کو امریکی شہریوں، کمپنیوں اور حکومتی اداروں کے خلاف ڈیجیٹل حملوں سے روکنا ہے۔
