اسلام آباد/کوئٹہ — بلوچستان کے ضلع مستونگ کے علاقے کھڈ کوچہ میں سیکیورٹی فورسز کی جانب سے جاری انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن (IBO) کے دوران مزید 3 دہشت گرد ہلاک ہو گئے ہیں، جس کے بعد اس مخصوص آپریشن میں اب تک ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کی کل تعداد 13 تک پہنچ گئی ہے۔ ‘آپریشن العزم’ کے نام سے جاری یہ بڑی کارروائی کوئٹہ سے کراچی جانے والی ایک مسافر بس پر فائرنگ کے واقعے کے بعد غیر معینہ مدت کے کرفیو کے دوران شروع کی گئی تھی۔ وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے سیکیورٹی فورسز کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہتے ہوئے اس پیش رفت کی تصدیق کی اور عزم دہرایا کہ بلوچستان سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک یہ آپریشنز جاری رہیں گے۔
سرکاری میڈیا کے مطابق، سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں دہشت گردوں کے متعدد ٹھکانے مکمل طور پر تباہ کر دیے گئے ہیں، جہاں سے بھاری مقدار میں اسلحہ، گولہ بارود اور آئی ای ڈی (IEDs) بنانے کا مواد برآمد ہوا ہے۔ اس سے قبل جمعرات کو 6 اور جمعہ کو 4 دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا گیا تھا۔ واضح رہے کہ یہ کارروائیاں ایک ایسے وقت میں کی جا رہی ہیں جب مستونگ میں ہی مسلح افراد کی فائرنگ سے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ جاں بحق ہو گئے تھے۔ صوبے میں امن و امان کی اس صورتحال کے پیش نظر جہاں ایک طرف سیکیورٹی فورسز کے کریک ڈاؤن میں تیزی آئی ہے، وہیں دوسری طرف صوبائی وزیرِ داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے سیاسی و قبائلی رہنماؤں سے گفتگو کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ حکومت اس بحران کے سیاسی حل اور مذاکرات کے لیے پرعزم ہے۔
