وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے ڈارک ویب پر ہونے والی غیر قانونی سرگرمیوں کا سراغ لگانے کے لیے ایک خصوصی یونٹ تشکیل دے دیا ہے۔ پاکستان میں ڈیجیٹل پولیسنگ کے حوالے سے یہ ایک اہم پیش رفت ہے، جس کا مقصد گمنام رہ کر کیے جانے والے سائبر جرائم، مالی فراڈ اور حساس ڈیٹا کی خرید و فروخت کا قلع قمع کرنا ہے۔
سائبر کرائم ونگ کے تحت کام کرنے والے اس یونٹ میں ماہرینِ سائبر سیکیورٹی اور فرانزک تجزیہ کار شامل ہیں۔ ذرائع کے مطابق، ٹیم کو جدید ترین ڈیکرپشن ٹولز اور ٹریفک اینالیسس سافٹ ویئر فراہم کیے گئے ہیں، جو اس سے قبل مقامی تفتیشی اداروں کے پاس دستیاب نہیں تھے۔
گزشتہ کئی برسوں سے ڈارک ویب پاکستان کے بینکنگ انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے والے ہیکرز کے لیے ایک محفوظ پناہ گاہ بنا ہوا ہے۔ یہ عناصر ‘ٹور’ (Tor) جیسے نیٹ ورکس کا استعمال کرتے ہوئے اپنی شناخت چھپاتے ہیں اور بغیر کسی خوف کے کارروائیاں کرتے ہیں۔ ایف آئی اے کا نیا یونٹ اب اسی خفیہ پرت کو توڑنے کی کوشش کرے گا۔
ایف آئی اے کے ایک اعلیٰ افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ، "ہم اب صرف انفرادی ہیکرز تک محدود نہیں ہیں۔ ہماری توجہ ان گروہوں پر ہے جو ان خفیہ نیٹ ورکس کے ذریعے چوری شدہ رقوم منتقل کرتے ہیں اور نجی ڈیٹا فروخت کرتے ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ڈیجیٹل سرحدوں کو مزید غیر محفوظ نہ چھوڑا جائے۔”
اس اقدام کا وقت انتہائی اہم ہے۔ حال ہی میں ڈارک ویب فورمز پر لاکھوں پاکستانیوں کے کریڈٹ کارڈز کا ڈیٹا لیک ہونے کے واقعات نے حکومت کو متحرک ہونے پر مجبور کیا۔ ایف آئی اے ماضی میں سائبر فراڈ کے ملزمان کو گرفتار تو کرتی رہی ہے، لیکن وہ زیادہ تر ‘سرفیس ویب’ پر کیے گئے فشنگ حملوں تک محدود تھے۔ ڈارک ویب کے اندر چھپے مجرموں تک پہنچنا انتہائی پیچیدہ تکنیکی مہارت اور عالمی تعاون کا متقاضی ہے۔
یہ یونٹ انٹرپول اور دیگر بین الاقوامی سائبر انٹیلی جنس اداروں کے ساتھ مل کر تھریٹ انٹیلی جنس کا تبادلہ بھی کر رہا ہے۔ چونکہ ڈارک ویب کی کارروائیاں کسی ایک ملک تک محدود نہیں ہوتیں، اس لیے اس یونٹ کی کامیابی کا انحصار مقامی کوڈ بریکنگ کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر معلومات کے فوری تبادلے پر بھی ہوگا۔
چیلنجز اپنی جگہ موجود ہیں۔ ٹیکنالوجی میں بہتری کے باوجود، ڈارک ویب پر موجود مجرم مسلسل اپنے طریقے بدلتے رہتے ہیں تاکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں سے ایک قدم آگے رہیں۔ فی الحال، ایف آئی اے کا ہدف ان عناصر کے لیے ڈارک ویب کو ایک پرخطر مقام بنانا ہے، تاکہ وہ اسے اپنے جرائم کے محفوظ ٹھکانے کے طور پر استعمال نہ کر سکیں۔
