لیہہ: مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے لداخ کے امور پر ثالثی سے دستبردار ہونے کے بعد، سماجی کارکن سونم وانگچک نے لداخ کی آئینی حیثیت کے لیے اپنی تحریک کے اگلے مرحلے کا اعلان کر دیا ہے۔ وانگچک، جنہوں نے حال ہی میں لیہہ سے دہلی تک طویل مارچ کی قیادت کی تھی، اب حکومت پر دباؤ بڑھانے کے لیے حکمت عملی تبدیل کر رہے ہیں۔
دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ لیہہ ایپکس باڈی اور کارگل ڈیموکریٹک الائنس کے ساتھ جاری مذاکرات میں ایک بڑا خلا پیدا کر گیا ہے۔ وانگچک کا ماننا ہے کہ حکومت کی جانب سے مذاکرات میں تاخیر اور نئے ثالث کے تقرر میں سستی اس بات کا ثبوت ہے کہ لداخ کو چھٹا شیڈول اور ریاستی درجہ دینے کے معاملے پر حکومتی ارادے مخلص نہیں ہیں۔
تحریک اب کسی نئے ثالث کا انتظار کرنے کے موڈ میں نہیں ہے۔ وانگچک کا ارادہ لداخ کے مقامی مطالبے کو ایک قومی تحریک میں بدلنے کا ہے، تاکہ ماحولیاتی تحفظ اور جمہوریت کی بحالی کے اس مسئلے کو پورے ملک میں اٹھایا جا سکے۔ ان کے نزدیک یہ تعطل ایک رکاوٹ نہیں، بلکہ تحریک کو تیز کرنے کا ایک محرک ہے۔
سونم وانگچک نے اپنے حامیوں سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا، "ہم نے اب تک صبر کا مظاہرہ کیا ہے۔ لیکن اگر حکومت کے پاس کوئی روڈ میپ نہیں ہے، تو یہ صبر محض خاموشی ہے۔ ہم اب مزید خاموش نہیں رہیں گے۔”
لداخ کے عوام کا بنیادی مطالبہ آئین کا چھٹا شیڈول ہے، جس کے تحت لداخ میں خود مختار ضلعی کونسلیں قائم کی جا سکیں گی، جنہیں قانون سازی اور عدالتی اختیارات حاصل ہوں گے۔ مرکزی حکومت اب تک اس مطالبے پر ٹال مٹول سے کام لے رہی ہے، جس کی وجہ خطے کی اسٹریٹجک اہمیت اور موجودہ انتظامی ڈھانچے کو قرار دیا جاتا ہے۔
دوسری جانب، ناقدین کا کہنا ہے کہ اس طرح کی تحریکوں سے خطے میں عدم استحکام پیدا ہو سکتا ہے، جبکہ حامیوں کا موقف ہے کہ اگر یہ حفاظتی اقدامات نہ کیے گئے تو ہمالیہ کا حساس ماحولیاتی نظام صنعتی استحصال کی نذر ہو جائے گا۔
دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ دراصل مذاکرات کی میز کو دوبارہ صفر پر لے آیا ہے۔ مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ وزارت داخلہ فوری طور پر کسی ایسے شخص کو ثالث مقرر کرے جس کے پاس واضح اختیارات ہوں، بصورت دیگر وہ سول نافرمانی کی ایک نئی لہر شروع کرنے پر مجبور ہوں گے۔
لداخ میں سردیوں کی آمد کے ساتھ ہی کھلے میدانوں میں احتجاج کرنا مشکل ہو جائے گا۔ وانگچک اب اپنی حکمت عملی تبدیل کر رہے ہیں؛ وہ دہلی کی سڑکوں کے بجائے اب ایک منظم قومی مہم کے ذریعے حکومت پر دباؤ ڈالیں گے، تاکہ پارلیمنٹ کے اگلے اجلاس سے قبل حکومت کو کوئی ٹھوس فیصلہ کرنے پر مجبور کیا جا سکے۔
