واشنگٹن — امریکہ میں رواں سال خسرہ کے مریضوں کی تعداد 2,318 تک پہنچ گئی ہے، جس کی تصدیق سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن (سی ڈی سی) نے جمعہ کے روز کی ہے۔ سال 2026 کے صرف پہلے سات مہینوں میں سامنے آنے والے یہ اعداد و شمار گزشتہ پورے سال (2025) کے 2,289 کیسز سے بھی تجاوز کر گئے ہیں، جو کہ گزشتہ 35 سالوں میں خسرہ کی بلند ترین سالانہ سطح ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق خسرہ جیسی انتہائی متعدی بیماری کا یہ پھیلاؤ 1989 سے 1991 کے درمیانی عرصے کے بعد سب سے شدید ہے، اور تشویشناک بات یہ ہے کہ ابھی سال ختم ہونے میں کئی ماہ باقی ہیں اور ملک بھر سے مسلسل نئے کیسز رپورٹ ہو رہے ہیں۔
امریکی محکمہ صحت کے حکام نے اس بحران کی بنیادی وجہ ملک میں ویکسینیشن کی شرح میں ہونے والی مسلسل کمی کو قرار دیا ہے۔ سی ڈی سی کے مطابق، بچوں میں ایم ایم آر (MMR) ویکسین کی شرح گر کر 92.5 فیصد رہ گئی ہے، جو کہ وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے لازمی حد (95 فیصد) سے نمایاں طور پر کم ہے۔ رپورٹ کے مطابق رواں سال خسرہ کا شکار ہونے والے 93 فیصد افراد ایسے تھے جنہوں نے ویکسین نہیں لگوائی تھی۔ امریکی اکیڈمی آف پیڈیاٹرکس سمیت متعدد طبی ماہرین نے وفاقی سطح پر صحت کی پالیسیوں اور ویکسین کے حوالے سے پھیلنے والے شکوک و شبہات کو بھی اس کی ایک بڑی وجہ قرار دیا ہے۔ اس وقت خسرہ کے سب سے زیادہ کیسز جنوبی کیرولینا، یوٹاہ، ایریزونا، ٹیکساس اور فلوریڈا سمیت 45 ریاستوں میں رپورٹ ہوئے ہیں، جہاں متاثرین میں اکثریت بچوں اور نوجوانوں کی ہے۔
