کراچی — کراچی کی ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹری نے کینسر کے علاج میں استعمال ہونے والی نو اہم ادویات کو جعلی اور انتہائی غیر معیاری قرار دیتے ہوئے ملک گیر ہیلتھ الرٹ جاری کر دیا ہے۔ سندھ ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹری کے تجزیاتی ٹیسٹ کے مطابق، ان ادویات میں کینسر کے خلیات کو روکنے والا بنیادی فارمولا یا فعال جزو (API) سرے سے موجود ہی نہیں تھا، جس کی وجہ سے یہ جان لیوا مرض کے خلاف بالکل بے اثر ثابت ہوئیں۔ لیبارٹری کی جانب سے جاری کردہ فہرست میں سائیکلو فاسفامائیڈ 50 ملی گرام، سورافینیب 200 ملی گرام، ایریمیڈیکس 1 ملی گرام، لینالیڈومائیڈ 10 ملی گرام، لیوکیران 2 ملی گرام، لینواٹینیب 10 ملی گرام، نینٹیڈانیب 150 ملی گرام، لینویکسن 4 ملی گرام اور جیفیمیڈ 250 ملی گرام شامل ہیں۔
سندھ ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹری کے ڈائریکٹر سید عدنان رضوی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ان جعلی مصنوعات پر ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) کا جاری کردہ رجسٹریشن نمبر موجود نہیں تھا، جس سے واضح ہوتا ہے کہ یہ ادویات اسمگلنگ یا بلیک مارکیٹ کے ذریعے ملک میں سپلائی کی جا رہی تھیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ لیبارٹری پہلے بھی صوبے میں غیر رجسٹرڈ اور غیر معیاری ادویات کی گردش کا سراغ لگا چکی ہے۔ ڈائریکٹر نے سخت وارننگ دی کہ کینسر جیسی مہنگی اور تکلیف دہ تھیراپی کے دوران غیر معیاری یا نقلی ادویات کا استعمال مریضوں کے لیے انتہائی خطرناک ہو سکتا ہے، کیونکہ اصل دوا نہ ملنے کے باعث مریض کا مرض بغیر کسی رکاوٹ کے مزید بگڑ سکتا ہے۔
