کراچی — معروف پاکستانی ڈرامہ اداکارہ ارجمند رحیم نے سنہ 2006 میں اپنے والد کے اچانک ہارٹ اٹیک کے باعث انتقال کے بعد شدید ذہنی دباؤ، گھبراہٹ (اینگزائٹی) اور پینک اٹیکس کے خلاف اپنی طویل جنگ کے بارے میں کھل کر گفتگو کی ہے۔ ایک حالیہ ٹی وی شو میں بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ذہنی صحت کے مسائل کا بروقت علم نہ ہونا انتہائی خوفناک تھا، جس کے باعث وہ اکثر دل کی دھڑکن تیز ہونے اور پسینہ آنے پر خود کو بھی ہارٹ اٹیک کا شکار سمجھتی تھیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کی مکمل بحالی باقاعدہ تھراپی، ماہرِ نفسیات سے مشاورت اور ادویات کے درست استعمال کی بدولت ممکن ہوئی۔ انہوں نے عوام پر زور دیا کہ وہ آج کی تیز رفتار زندگی میں تھوڑا توقف کریں اور اپنی ذہنی و جسمانی صحت سمیت اپنے خاندان کو بھرپور وقت دیں۔
اپنی ذاتی زندگی کے علاوہ، سنہ 1995 سے شوبز انڈسٹری سے وابستہ ارجمند رحیم نے پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری کے تنظیمی ڈھانچے اور خامیوں پر بھی گہری گفتگو کی۔ ماضی میں معصوم لڑکی اور بعد میں ڈرامہ ‘شیر’ کے بعد مسلسل روایتی طور پر مضبوط اور حاکمانہ کردار ملنے پر انہوں نے ہدایت کاروں کو تنقید کا نشانہ بنایا اور اسے تخلیقی سستی قرار دیا۔ نیویارک سے اداکاری کی تعلیم حاصل کرنے والی اداکارہ نے بین الاقوامی پروڈکشنز کا پاکستانی میڈیا سے موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے ہاں وقت کی پابندی، منصوبہ بندی اور مالیاتی ذمہ داری کا شدید فقدان ہے جو کہ آخری لمحات میں کام کرنے کی عادت کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔ انہوں نے مستقبل میں ایسے بامقصد اور معیاری ڈرامے بنانے کی خواہش کا اظہار کیا جو ناظرین کو بور کیے بغیر ایک اچھا پیغام فراہم کر سکیں۔
