کراچی — پاکستان میں نئی آٹو پالیسی کے اعلان میں غیر معمولی تاخیر اور مستقبل کے لائحہ عمل پر واضح گائیڈ لائنز نہ ہونے کے باعث ملک کی آٹو موبائل انڈسٹری عملی طور پر بندش کا شکار ہو گئی ہے۔ اے آر وائی نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انڈس موٹر کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (CEO) علی اصغر جمالی نے انکشاف کیا کہ مینوفیکچررز کو حکومتی پالیسیوں کے حوالے سے شدید غیر یقینی صورتحال کا سامنا ہے، جس کی وجہ سے ملک کے بیشتر وہیکل اسمبلنگ پلانٹس یا تو مکمل بند ہو چکے ہیں یا وہاں پیداواری عمل معطل ہو چکا ہے۔ اگرچہ 2021 سے 2026 تک کی آٹو پالیسی نے چینی اور کورین کمپنیوں کو مارکیٹ میں لا کر مقابلہ تو بڑھایا، مگر اب اس کے خاتمے نے انڈسٹری کو بحران میں دھکیل دیا ہے۔
انڈس موٹر کے سربراہ نے خبردار کیا کہ موجودہ پالیسی کے تحت ملنے والی مراعات ختم ہو رہی ہیں، جس کے باعث ہائبرڈ اور پلگ ان ہائبرڈ گاڑیوں پر سیلز ٹیکس 8.5 فیصد سے یکدم بڑھ کر 25 فیصد ہو گیا ہے۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ 5 سالہ صنعتی پالیسی سرمایہ کاری کی واپسی کے لیے بہت مختصر ہے، لہٰذا حکومت کو 10 سے 15 سال کی طویل مدتی پالیسی متعارف کروانی چاہیے تاکہ سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہو سکے۔ اس وقت 800 سی سی کیٹیگری میں امپورٹڈ اور مقامی طور پر تیار گاڑیوں پر ڈیوٹی 30 فیصد پر برابر ہے، جس کی وجہ سے اسمبلرز تذبذب کا شکار ہیں کہ وہ مقامی پیداوار جاری رکھیں یا امپورٹ پر انحصار کریں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ہائبرڈ گاڑیوں پر سیلز ٹیکس کم کر کے 18 فیصد کیا جائے اور کم آمدنی والے صارفین کے لیے چھوٹی گاڑیوں پر سبسڈی دی جائے۔
