پیرس / میڈرڈ: فرانس اور اسپین میں شدید جنگلاتی آگ نے تباہی مچا دی ہے، جس کے باعث ڈھائی لاکھ سے زائد افراد کو اپنے گھروں سے محفوظ مقامات پر منتقل کرنا پڑا۔ اس دوران اسپین میں آگ سے متعلق پہلی ہلاکت بھی رپورٹ ہوئی ہے، جہاں ویلینسیا کے قریب ایک بزرگ شخص جان کی بازی ہار گیا۔
فرانس کے جنوب مغربی علاقے جیروند (Gironde) میں لگنے والی آگ تیزی سے پھیلتے ہوئے بورڈو کے مضافات تک جا پہنچی ہے۔ حکام نے تقریباً 1 لاکھ 97 ہزار افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا ہے، جبکہ ہزاروں افراد عارضی پناہ گاہوں میں مقیم ہیں۔ آگ کے دھوئیں نے وسیع علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے اور کئی شاہراہیں بھی متاثر ہوئی ہیں۔
فرانسیسی حکومت نے آگ بجھانے کے لیے ہزاروں فائر فائٹرز، فوجی اہلکار، ہیلی کاپٹرز اور A400M فوجی طیارہ تعینات کیا ہے، جو آگ پر فائر ریٹارڈنٹ مادہ گرا رہا ہے۔ حکام کے مطابق تیز ہواؤں کی وجہ سے آگ پر قابو پانا انتہائی مشکل ہو گیا ہے، جبکہ یورپی ممالک بھی امدادی طیارے بھیج رہے ہیں۔
دوسری جانب اسپین میں میڈرڈ کے مغرب میں تین بڑی آگیں آپس میں مل گئیں، جس کے بعد حکومت نے ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ قومی سطح پر جنگلاتی آگ کی ایمرجنسی نافذ کر دی۔ تقریباً 70 ہزار سے 88 ہزار افراد کو یا تو نقل مکانی کرنا پڑی یا گھروں میں رہنے کی ہدایت دی گئی ہے کیونکہ دھواں اور آگ مسلسل پھیل رہی ہے۔
اسپین کے شہر ویلینسیا کے قریب آگ میں پھنسنے کے باعث ایک بزرگ شہری ہلاک ہو گیا، جو اس بحران کی پہلی تصدیق شدہ ہلاکت ہے۔ حکام نے شہریوں سے متاثرہ علاقوں سے دور رہنے اور انخلا کے احکامات پر سختی سے عمل کرنے کی اپیل کی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ شدید گرمی، طویل خشک موسم اور تیز ہواؤں نے آگ کو مزید خطرناک بنا دیا ہے۔ یورپی حکام کے مطابق موسمیاتی تبدیلی کے باعث ایسی شدید جنگلاتی آگ کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جس سے مستقبل میں بھی اسی نوعیت کے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔
