برسبین — کوئنز لینڈ کے محکمہ صحت نے ریاست میں برڈ فلو ایچ فائیو این ون کے پہلے کیس کی تصدیق کر دی ہے، جس کے بعد آسٹریلیا کی چار ریاستیں اس وائرس کی لپیٹ میں آ چکی ہیں۔ وائرس کی تشخیص ڈارلنگ ڈاؤنز کے قریب ایک پولٹری فارم میں ہوئی، جس کے بعد حکام نے فوری طور پر فارم کو قرنطینہ کر دیا ہے اور اردگرد کے علاقوں میں پرندوں کی نقل و حمل پر پابندی عائد کر دی ہے۔
یہ کیس نیو ساؤتھ ویلز، وکٹوریہ اور آسٹریلین کیپیٹل ٹیریٹری میں پھیلنے والے وبائی سلسلے کی کڑی ہے۔ عالمی سطح پر ایچ فائیو این ون نے خوراک کی سپلائی اور جنگلی حیات کو شدید متاثر کیا ہے، تاہم آسٹریلوی حکام کا اصرار ہے کہ عام شہریوں کے لیے اس وائرس کا خطرہ فی الحال کم ہے۔
بائیو سیکیورٹی کوئنز لینڈ نے ہنگامی بنیادوں پر ٹیمیں تشکیل دے دی ہیں جو متاثرہ فارم میں پرندوں کو تلف کرنے اور علاقے کو جراثیم سے پاک کرنے کا کام کر رہی ہیں۔ حکام کا بنیادی ہدف وائرس کو تجارتی فارمز تک پہنچنے سے روکنا ہے۔ تحقیقاتی ٹیمیں اس بات کا سراغ لگا رہی ہیں کہ یہ وائرس اس فارم تک کیسے پہنچا، کیونکہ اس فارم سے حال ہی میں کسی دوسری ریاست میں پرندوں کی منتقلی نہیں ہوئی تھی۔
ایک اعلیٰ بائیو سیکیورٹی افسر نے بریفنگ کے دوران کہا، "ہم انتہائی احتیاط برت رہے ہیں۔ ہماری توجہ صرف اور صرف وائرس کو محدود کرنے پر ہے۔ ہم جتنی جلدی اسے قابو میں کر لیں گے، پوری انڈسٹری اتنی ہی محفوظ رہے گی۔”
اس وباء کے معاشی اثرات نمایاں ہونے لگے ہیں۔ متاثرہ علاقوں میں انڈوں کی قلت دیکھی جا رہی ہے اور انڈسٹری کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر وائرس کا پھیلاؤ نہ رکا تو قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ پولٹری مالکان کو سخت ہدایات دی گئی ہیں کہ وہ بائیو سیکیورٹی کے انتظامات کو مزید بہتر بنائیں، فارم میں زائرین کا داخلہ بند کریں اور خوراک کو جنگلی پرندوں — جو اس وائرس کے بنیادی کیریئر سمجھے جاتے ہیں — سے محفوظ رکھیں۔
موسمی وباء کے برعکس، ایچ فائیو این ون کی یہ قسم ماحول میں طویل عرصے تک برقرار رہنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ ویٹرنری ماہرین جنگلی پرندوں میں غیر معمولی اموات پر نظر رکھے ہوئے ہیں، تاہم آسٹریلیا کا وسیع جغرافیہ اس نگرانی میں بڑی رکاوٹ ہے۔
جیسے جیسے ریاست میں لاک ڈاؤن کا دوسرا ہفتہ شروع ہو رہا ہے، صارفین کے لیے سوال صرف انڈوں کی قیمت نہیں، بلکہ یہ ہے کہ سپلائی چین ان مقامی پابندیوں کو کب تک برداشت کر پائے گی۔ چار ریاستوں میں وائرس کی موجودگی کے بعد، وفاقی حکومت پر دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ ریاستی سطح کے اقدامات کے بجائے ایک مربوط قومی حکمت عملی وضع کرے۔
فی الحال متاثرہ فارم کی سخت نگرانی کی جا رہی ہے اور زرعی انسپکٹرز کو توقع ہے کہ پرندوں کو تلف کرنے کا عمل جمعہ تک مکمل ہو جائے گا۔ مزید ٹیسٹ یہ واضح کریں گے کہ آیا یہ وائرس جنوبی ریاستوں میں پائے جانے والے وائرس سے مطابقت رکھتا ہے یا یہ خطے میں ایک نئی آزادانہ انٹری ہے۔
