پاکستان میں پیٹرول کی پرچون قیمت عوامی غم و غصے کا مرکز بن چکی ہے۔ پمپ پر ادا کی جانے والی قیمت کا ایک بڑا حصہ ایندھن کی اصل لاگت کے بجائے حکومتی لیویز، ٹیکسز اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے منافع کی نذر ہو جاتا ہے۔
مارکیٹ کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ اگر پیٹرول کی قیمت 220 روپے فی لیٹر ہے، تو درآمد شدہ یا ریفائن ہونے والے پیٹرول کی اصل قیمت اس کا نصف سے بھی کم بنتی ہے۔ باقی رقم پیٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی ، جنرل سیلز ٹیکس ، اور ڈیلرز و کمپنیوں کے مقررہ مارجنز کی مد میں چلی جاتی ہے۔
عام شہری کے لیے اس قیمت کا حساب کتاب غیر شفاف ہے۔ جب عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں گرتی ہیں، تو حکومت اپنے مالیاتی خسارے کو پورا کرنے کے لیے ایندھن پر ٹیکس بڑھا دیتی ہے۔ وزارت خزانہ کا موقف ہے کہ آئی ایم ایف کے مقرر کردہ اہداف پورے کرنے کے لیے یہ ٹیکس ناگزیر ہیں، لیکن اس کا سارا بوجھ براہ راست صارفین کی جیب پر پڑتا ہے۔
اسلام آباد کے ایک آزاد توانائی تجزیہ کار کا کہنا ہے، "ہم ریاست کی نااہلی اور آئل کمپنیوں کے یقینی منافع کی قیمت ادا کر رہے ہیں۔ جب حکومت میں اضافہ کرتی ہے، تو اس کا مقصد سیکٹر کو سبسڈی دینا نہیں، بلکہ بجٹ کے خسارے کو پورا کرنا ہوتا ہے۔ صارف درحقیقت وزارت خزانہ کے لیے ٹیکس کلیکٹر کا کردار ادا کر رہا ہے۔”
آئل مارکیٹنگ کمپنیاں اور ڈیلرز مقررہ مارجن پر کام کرتے ہیں۔ مہنگائی اور آپریٹنگ اخراجات کے پیش نظر ان مارجنز میں وقتاً فوقتاً اضافہ کیا جاتا ہے۔ اگرچہ یہ مارجن فی لیٹر کے حساب سے چند روپے ہی ہوتے ہیں، لیکن یہ منافع عالمی منڈی کے اتار چڑھاؤ سے محفوظ رہتا ہے۔
پیٹرول پر بھاری ٹیکس برقرار رکھنا حکومت کا ایک تزویراتی، اگرچہ غیر مقبول، فیصلہ ہے۔ کمزور معیشت میں براہ راست ٹیکس وصولی کی گنجائش محدود ہونے کی وجہ سے حکومت کے لیے ایندھن ایک ایسی شے ہے جہاں سے وہ روزانہ کی بنیاد پر ریونیو حاصل کر سکتی ہے۔
ایک عام مسافر کے لیے عالمی منڈی کے نرخ اور مقامی قیمت کا فرق محض ایک عددی بحث ہے۔ اسے پمپ پر 220 روپے فی لیٹر نظر آتے ہیں اور اس کا اثر اس کے گھریلو بجٹ پر پڑتا ہے۔ جیسے جیسے مہنگائی قوتِ خرید کو نچوڑ رہی ہے، قیمتوں کے تعین میں شفافیت کا فقدان عوامی بے چینی میں مزید اضافہ کر رہا ہے۔
جب تک حکومت ایندھن کی قیمت کو اپنی ٹیکس وصولی سے الگ نہیں کرتی، پمپ پر موجود نرخ معاشی سے زیادہ سیاسی آلہ کار بنے رہیں گے۔
