کراچی — پاکستان کے بینکنگ سیکٹر میں بڑھتے ہوئے سائبر اسکامز اور ڈیجیٹل فراڈ پر قابو پانے کے لیے ماہرینِ ٹیکنالوجی نے ملک کے مالیاتی اداروں میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) اور مشین لرننگ کے فوری استعمال پر زور دیا ہے۔ بینکنگ محتسب پاکستان کی سالانہ رپورٹ کے مطابق،Preventive اقدامات کے باوجود بینکنگ فراڈ کی شکایات میں مسلسل اضافہ دیکھا گیا ہے، جو 2024 میں 4,171 سے بڑھ کر 2025 میں 4,615 تک پہنچ گئیں۔ اگرچہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) کے فنانشل انکلوژن انڈیکس (P-FII) کے مطابق ملک میں مجموعی طور پر مالیاتی شمولیت کی شرح بڑھ کر 58.1 فیصد ہو چکی ہے اور موبائل والٹس کے باعث 67 فیصد بالغ آبادی بینک اکاؤنٹس کی حامل ہے، لیکن کوالٹی (معیار) کا ذیلی انڈیکس 43.9 پر ہونے کی وجہ سے یہ پورا نظام سائبر حملوں کی زد میں ہے۔
سائبر سیکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل بینکنگ کی تیز رفتار منتقلی جہاں صارفین کو سہولت دے رہی ہے، وہیں ہیکرز کو فشنگ، شناخت کی چوری (آئیڈینٹٹی تھیفٹ) اور فیک سوشل میڈیا اشتہارات کے ذریعے لوٹنے کا موقع بھی فراہم کر رہی ہے۔ روایتی سیکیورٹی سسٹمز ان نئے طریقوں کو روکنے میں ناکام ثابت ہو رہے ہیں، جس کے حل کے لیے اے آئی (AI) پر مبنی مانیٹرنگ کی اشد ضرورت ہے جو لاکھوں ٹرانزیکشنز کا ریئل ٹائم تجزیہ کر کے مشکوک سرگرمیوں کو بروقت بلاک کر سکے۔ اسٹیٹ بینک کی قومی فنانشل انکلوژن حکمتِ عملی 2024-28 کے تحت ان خدمات کو محفوظ بنانا اولین ترجیح ہے۔ ماہرین نے واضح کیا ہے کہ صرف ٹیکنالوجی پر سرمایہ کاری کافی نہیں ہوگی، بلکہ اس کے ساتھ ساتھ عوام میں ڈیجیٹل آگاہی پیدا کرنا اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ تکنیکی تعاون بڑھانا بھی ناگزیر ہے۔
