پاکستان میں گاڑیوں کی ملکیت کی منتقلی اور رجسٹریشن کے لیے طویل قطاروں اور دفاتر کے چکروں کا دور ختم ہو رہا ہے۔ محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن نے نادرا کے بائیو میٹرک نظام کو اپنی ڈیجیٹل خدمات سے منسلک کر دیا ہے، جس کے بعد اب گاڑی مالکان اپنے اسمارٹ فون کے ذریعے گھر بیٹھے تصدیق کا عمل مکمل کر سکتے ہیں۔
اس عمل کو مکمل کرنے کا طریقہ کار درج ذیل ہے:
ضروری تقاضے
ایپ استعمال کرنے سے پہلے یقینی بنائیں کہ آپ کا اسمارٹ فون ‘این ایف سی’ ٹیکنالوجی کو سپورٹ کرتا ہو۔ یہ لازمی ہے کیونکہ ایپ آپ کے شناختی کارڈ میں موجود چپ کو اسکین کرنے کے لیے اسی ٹیکنالوجی کا استعمال کرتی ہے۔ اس کے علاوہ اپنے پاس اپنا اصل شناختی کارڈ اور گاڑی کے رجسٹریشن دستاویزات ضرور رکھیں۔
تصدیقی عمل
پاک آئی ڈی ایپ میں لاگ ان ہونے کے بعد ‘بائیو میٹرک ویریفکیشن’ کے آپشن کا انتخاب کریں۔ ایپ آپ سے شناختی کارڈ اسکین کرنے کا کہے گی۔ اپنے کارڈ کو فون کی پشت پر—کیمرہ ماڈیول کے قریب—اس وقت تک رکھیں جب تک ایپ چپ کو شناخت نہ کر لے۔
چپ اسکین ہونے کے بعد، ایپ ‘لائیونس چیک’ کا عمل شروع کرے گی۔ آپ کو اسکرین پر دی گئی ہدایات کے مطابق اپنی ایک مختصر ویڈیو یا تصاویر بنانی ہوں گی۔ یہ عمل اس بات کی ضمانت ہے کہ تصدیق کرنے والا شخص وہی ہے جس کا شناختی کارڈ استعمال ہو رہا ہے، جس سے گاڑیوں کی غیر قانونی منتقلی یا جعل سازی کے امکانات ختم ہو جاتے ہیں۔
یہ تبدیلی کیوں ضروری تھی؟
برسوں تک گاڑیوں کی منتقلی "اوپن لیٹر” اور دستی تصدیق کے فرسودہ نظام کے باعث فراڈ کا شکار رہی۔ اب گاڑیوں کے ریکارڈ کو نادرا کے لائیو ڈیٹا بیس سے منسلک کر کے حکومت نے شناخت کی چوری کو ناممکن بنا دیا ہے۔ اگر بائیو میٹرک اسکین ناکام ہو جائے، تو سسٹم خود بخود لین دین کو روک دیتا ہے اور اسے دستی جائزے کے لیے بھیج دیتا ہے، جس کے بعد مالک کو ذاتی طور پر ایکسائز دفتر جانا پڑتا ہے۔
عام مشکلات
صارفین کو اکثر ‘این ایف سی فیلیر’ کی شکایت ہوتی ہے۔ اگر آپ کا فون کارڈ نہیں پڑھ پا رہا، تو فون کی سیٹنگز میں جا کر چیک کریں کہ این ایف سی آن ہے یا نہیں۔ اگر پھر بھی مسئلہ حل نہ ہو تو ممکن ہے کہ آپ کے شناختی کارڈ کی چپ خراب ہو۔ ایسی صورت میں ایپ کام نہیں کرے گی اور آپ کو نادرا مرکز جا کر اپنا کارڈ اپڈیٹ کروانا ہوگا۔
اگلا مرحلہ کیا ہے؟
جیسے ہی ایپ آپ کی بائیو میٹرک تصدیق مکمل کرے گی، ڈیٹا انکرپٹ ہو کر ایکسائز کے مرکزی سرور کو بھیج دیا جائے گا۔ آپ کو ایپ کے اندر ایک ڈیجیٹل تصدیقی کوڈ یا ریفرنس نمبر ملے گا۔ اس نمبر کو محفوظ رکھیں، کیونکہ یہی نمبر ایکسائز دفتر میں رجسٹریشن یا منتقلی کے عمل کو حتمی شکل دینے کے لیے آپ کی تصدیق کا ثبوت ہوگا۔
یہ پیش رفت گاڑیوں کے نظام کو پیپر لیس بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ یاد رکھیں کہ ایپ صرف شناخت کی تصدیق کرتی ہے، جبکہ گاڑی کا اصل اسمارٹ کارڈ اب بھی متعلقہ صوبائی ایکسائز محکمے ہی جاری کریں گے۔ ایپ کا استعمال شناخت کے مرحلے کو آسان بنانے کے لیے کریں، تاہم دستاویزات مکمل کرنے کے لیے اپنے مقامی موٹر رجسٹریشن اتھارٹی سے رابطہ رکھنا ضروری ہے۔
