صوبائی محکمہ تعلیم نے نجی اسکولوں کو پابند کیا ہے کہ وہ اپنی کل داخلہ نشستوں کا 10 فیصد حصہ غریب اور مستحق طلبہ کے لیے مختص کریں۔ اس حکم نامے کے تحت، اگلے تعلیمی سیشن کے آغاز تک عمل درآمد نہ کرنے والے اسکولوں کی رجسٹریشن منسوخ کر دی جائے گی۔
یہ پالیسی برسوں سے کاغذوں تک محدود تھی، لیکن اب حکام نے اسے سختی سے لاگو کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ضلعی تعلیمی افسران کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اسکولوں کا دورہ کریں اور تصدیق کریں کہ یہ نشستیں واقعی کم آمدنی والے گھرانوں کے بچوں کو دی گئی ہیں، نہ کہ فیس ادا کرنے والے امیدواروں کو۔
اس اقدام کا مقصد سرکاری اور نجی اسکولوں کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج کو کم کرنا ہے۔ نجی تعلیمی اداروں کی بھاری فیسیں عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہیں، اور حکومت کا ماننا ہے کہ اشرافیہ کے اسکولوں کے دروازے غریب بچوں کے لیے کھولنے سے معیارِ تعلیم میں برابری آئے گی۔
تاہم، نجی اسکولوں کے مالکان نے اس فیصلے پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ دارالحکومت کے ایک نجی اسکول کے پرنسپل نے کہا کہ "ہمارا پورا تعلیمی ماڈل فیسوں پر انحصار کرتا ہے جس سے عمارت کا کرایہ اور اساتذہ کی تنخواہیں ادا ہوتی ہیں۔” ان کا کہنا ہے کہ حکومت نے اس نقصان کے ازالے کے لیے کوئی ٹیکس چھوٹ یا مالی معاونت فراہم نہیں کی۔
ماہرینِ تعلیم کا کہنا ہے کہ صرف مفت داخلہ کافی نہیں۔ وردی، کتابوں اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات اب بھی غریب خاندانوں کے لیے ایک بڑا بوجھ ہیں۔ خدشہ ہے کہ اسکول انتظامیہ اس کوٹے کو پورا کرنے کے لیے یا تو معیار گرائے گی یا پھر اضافی عملہ بھرتی کیے بغیر کلاس رومز میں رش بڑھا دے گی۔
محکمہ تعلیم کے حکام کا موقف ہے کہ اس فیصلے پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ والدین کے لیے ایک ڈیجیٹل پورٹل بنایا گیا ہے جہاں وہ ان اسکولوں کی شکایت کر سکتے ہیں جو داخلہ دینے سے انکار کریں۔
حکومت نے اسکولوں کو اپنی نئی داخلہ فہرستیں جمع کرانے کے لیے 60 دن کی مہلت دی ہے۔ خلاف ورزی کرنے والے اداروں پر بھاری جرمانے عائد ہوں گے، جبکہ بار بار حکم عدولی پر اسکول کا لائسنس بھی منسوخ کیا جا سکتا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا یہ نشستیں واقعی مستحق بچوں کو ملیں گی یا نجی اسکول اس بار بھی کسی نئے قانونی راستے سے اپنی ذمہ داری سے بچ نکلیں گے۔
