مشی گن کے محکمہ صحت نے ریاست بھر میں سائیکلو سپوریازس کے 9,253 کیسز کی تصدیق کی ہے۔ یہ پیٹ کی ایک متعدی بیماری ہے جو عام طور پر آلودہ سبزیوں اور پھلوں کے ذریعے پھیلتی ہے۔ محکمہ صحت اس وبا کے ماخذ کا سراغ لگانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر تحقیقات کر رہا ہے، جبکہ متاثرین کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
سائیکلو سپوریازس کا سبب بننے والا خوردبینی طفیلیہ ’سائیکلو سپوراکیٹانینسس‘ انسانی آنتوں کو متاثر کرتا ہے۔ اس کے نتیجے میں شدید اسہال، پیٹ میں مروڑ اور تھکن جیسی علامات ظاہر ہوتی ہیں۔ حکام تاحال اس وبا کے پیچھے کسی مخصوص فوڈ آئٹم یا ریٹیل چین کی نشاندہی کرنے سے قاصر ہیں۔
محکمہ صحت کے ترجمان نے بدھ کے روز بریفنگ کے دوران کہا کہ "ہم ہر پہلو کا جائزہ لے رہے ہیں۔ کیسز کی بڑی تعداد کی وجہ سے کسی ایک ماخذ تک پہنچنا ایک پیچیدہ عمل ہے۔”
یہ بیماری ایک شخص سے دوسرے شخص میں نہیں پھیلتی۔ اس کا پھیلاؤ آلودہ خوراک یا پانی کے ذریعے ہوتا ہے جس میں انسانی فضلے کے ذرات شامل ہوں۔ امریکہ میں اس طرح کی وبائیں اکثر درآمد شدہ دھنیا، تلسی، سلاد کے پتے یا رسبری کے ذریعے پھیلتی ہیں، خاص طور پر ان علاقوں سے جہاں یہ طفیلیہ قدرتی طور پر موجود ہے۔
موجودہ اعداد و شمار موسمی معمول سے کہیں زیادہ ہیں۔ مقامی کلینکس میں ٹیسٹ کے لیے نمونوں کا رش ہے اور وبائی امراض کے ماہرین متاثرین کی گزشتہ دو ہفتوں کی غذائی ہسٹری کا موازنہ کر رہے ہیں۔
بہت سے مریضوں کے لیے یہ انفیکشن محض ایک معمولی پیٹ کی خرابی نہیں ہے۔ علاج نہ ہونے کی صورت میں علامات ہفتوں یا مہینوں تک برقرار رہ سکتی ہیں۔ اگرچہ یہ بیماری جان لیوا ثابت ہونے کا امکان کم ہے، لیکن اس طفیلیے کو ختم کرنے کے لیے اینٹی بائیوٹکس (خاص طور پر ٹرائی میتھوپرِم-سلفامیتھوکسازول) کا کورس لازمی ہے۔
محکمہ صحت نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ پھلوں اور سبزیوں کو اچھی طرح دھوئیں، تاہم حکام کا ماننا ہے کہ یہ مکمل تحفظ نہیں ہے۔ ترجمان نے مزید کہا کہ "دھونے سے خطرہ کم ضرور ہوتا ہے، لیکن اگر طفیلیہ سبزی کے اندر موجود ہو تو صرف دھونا کافی نہیں ہے۔”
ریاستی لیبارٹریوں میں نمونوں کی جانچ جاری ہے اور توجہ سپلائی چین کے اس حصے پر مرکوز ہے جہاں سے یہ آلودگی شروع ہوئی۔ جب تک کسی مخصوص غذائی مصنوعہ کو مارکیٹ سے واپس نہیں لیا جاتا، کیسز کی تعداد میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔
ڈاکٹرز نے مشورہ دیا ہے کہ طویل عرصے تک پیٹ کی خرابی کا سامنا کرنے والے افراد عام ادویات کے بجائے فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کریں اور ٹیسٹ کروائیں تاکہ اس طفیلیے کی بروقت تشخیص ممکن ہو سکے۔
