محکمہ موسمیات نے 29 جولائی سے 5 اگست تک ملک بھر میں مون سون کے ایک نئے اور طاقتور سلسلے کے داخل ہونے کی وارننگ جاری کر دی ہے۔ اس دوران موسلا دھار بارشوں کے باعث بڑے شہروں میں اربن فلڈنگ اور پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ ہے۔
موسمیاتی نظام بحیرہ عرب اور خلیج بنگال سے نمی والی ہواؤں کے باعث ملک کے بالائی اور وسطی حصوں کو اپنی لپیٹ میں لے گا۔ 30 جولائی سے 3 اگست کے دوران اسلام آباد، راولپنڈی، لاہور اور پشاور سمیت کئی شہروں میں شدید بارشوں کا امکان ہے۔ ان شہروں کے نکاسی آب کے نظام اکثر شدید بارشوں کا بوجھ نہیں اٹھا پاتے، جس سے نچلے علاقوں میں پانی جمع ہونے کا خطرہ سر اٹھا رہا ہے۔
محکمہ موسمیات کے ترجمان نے صورتحال پر بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ "ہم ایک طاقتور موسمی نظام کی نگرانی کر رہے ہیں جو پورے ملک پر اثر انداز ہوگا۔ بارش کی شدت اتنی زیادہ ہو سکتی ہے کہ نشیبی علاقوں میں پانی کھڑا ہو جائے، اس لیے صوبائی انتظامیہ کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت کر دی گئی ہے۔”
شہری مراکز کے علاوہ خیبر پختونخوا کے پہاڑی اضلاع، گلیات، مری اور کشمیر کے لیے خصوصی ایڈوائزری جاری کی گئی ہے۔ مٹی میں نمی کی مقدار پہلے ہی زیادہ ہے، ایسے میں شدید بارش تودے گرنے کا باعث بن سکتی ہے، جس سے سیاحتی مقامات اور اہم شاہراہوں پر آمدورفت متاثر ہونے کا اندیشہ ہے۔
بارانی علاقوں کے کسانوں کو بھی فصلوں کے تحفظ کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ دریں اثنا، نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے مقامی انتظامیہ کو ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مشینری اور امدادی ٹیموں کو پہلے سے تعینات کرنے کی ہدایت کی ہے۔
یہ ہفتہ گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں زیادہ مرطوب اور بارشوں سے بھرپور رہے گا۔ اگرچہ بادلوں کے باعث درجہ حرارت میں کچھ کمی متوقع ہے، تاہم اصل چیلنج پانی کے بہاؤ کو کنٹرول کرنا ہوگا۔ متعلقہ حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگر بارش کی مقدار پیشگوئی سے بڑھتی ہے تو دریاؤں اور ندی نالوں کے قریبی علاقوں سے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنا پڑ سکتا ہے۔
