پاکستان کی وزارتِ تجارت برآمد کنندگان کے لیے ایک خصوصی سبسڈی اسکیم کو حتمی شکل دے رہی ہے، جس کا مقصد زرمبادل کے ذخائر میں کمی کو روکنا اور تجارتی خسارے کو کم کرنا ہے۔
یہ تجاویز اس وقت اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کے زیرِ غور ہیں۔ حکومت نے اس بار روایتی مراعات کے بجائے ہدف پر مبنی سبسڈی کا فیصلہ کیا ہے، جس میں ٹیکسٹائل، سرجیکل آلات اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبوں کو ترجیح دی جائے گی، کیونکہ ان شعبوں سے فوری طور پر ڈالر کی آمد ممکن ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق، پیکج میں بجلی کے ٹیرف پر ریبیٹ اور افریقہ و وسطی ایشیائی ممالک کے لیے فریٹ چارجز میں کمی شامل ہے۔
یہ فیصلہ گزشتہ دو سہ ماہیوں میں برآمدات کے حجم میں آنے والی شدید گراوٹ کے بعد کیا گیا ہے۔ ماضی میں حکومتیں کرنسی کی قدر میں کمی کے ذریعے برآمدات بڑھانے کی کوشش کرتی رہی ہیں، لیکن خام مال کی مہنگائی نے اس حکمتِ عملی کو ناکام بنا دیا۔ اب کی بار سبسڈی کا تعلق کارکردگی سے مشروط ہے۔ جو برآمد کنندگان گزشتہ سال کے مقابلے میں مقررہ اہداف حاصل نہیں کر پائیں گے، وہ اس ریلیف کے اہل نہیں ہوں گے۔
صنعتی حلقوں کے لیے یہ طویل عرصے سے درکار ایک اہم اقدام ہے۔ مینوفیکچررز کا کہنا ہے کہ بجلی کی بلند قیمتوں کے باعث پاکستانی مصنوعات یورپی اور امریکی منڈیوں میں غیر مسابقتی ہو چکی ہیں۔ فیصل آباد کے ایک معروف صنعت کار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ "ہم بھیک نہیں مانگ رہے، صرف مسابقتی بننا چاہتے ہیں۔ اگر بجلی کی قیمت کم نہ ہوئی تو برآمدی اہداف محض کاغذوں تک محدود رہیں گے۔”
دوسری جانب، وزارتِ خزانہ محتاط رویہ اپنائے ہوئے ہے۔ آئی ایم ایف کی سخت شرائط کے پیشِ نظر کسی بھی نئی سبسڈی کے لیے گنجائش نکالنا حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔ وزارت کو برآمدات بڑھانے کی ضرورت اور ملکی بجٹ کے خسارے کے درمیان توازن قائم رکھنا ہوگا۔
اگر یہ اسکیم منظور ہو جاتی ہے تو اس کا اطلاق آئندہ مالی سال کی پہلی سہ ماہی سے متوقع ہے۔ تاہم، اصل سوال یہ ہے کہ کیا یہ ٹارگٹڈ سبسڈی برسوں سے درپیش بنیادی ڈھانچے کی رکاوٹوں اور توانائی کے بحران کا متبادل ثابت ہو سکے گی یا نہیں۔
