انگلینڈ کے 50 فیصد سے زائد رقبے کو باضابطہ طور پر خشک سالی کا شکار قرار دے دیا گیا ہے۔ ماحولیاتی ایجنسی کے مطابق، گزشتہ 85 سالوں میں جولائی کا مہینہ سب سے زیادہ خشک رہا، جس کے بعد آبی ذخائر کی سطح خطرناک حد تک گر چکی ہے۔
ملک کے 14 میں سے 8 علاقوں کو اب ‘خشک سالی’ کے زمرے میں ڈال دیا گیا ہے، جن میں ساؤتھ ویسٹ، مڈلینڈز اور ساؤتھ ایسٹ شامل ہیں۔ یہ تبدیلی محض ایک درجہ بندی نہیں، بلکہ پانی کی فراہمی کرنے والی کمپنیوں کے لیے ہنگامی بنیادوں پر کام کرنے کا اشارہ ہے۔
نیشنل ڈراٹ گروپ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ "ہم ابھی نل بند کرنے کی صورتحال تک نہیں پہنچے،” لیکن انہوں نے خبردار کیا کہ آئندہ چند ماہ انتہائی اہم ہیں۔ کمپنیوں کو اب اپنے ہنگامی منصوبوں پر عمل درآمد کرنا ہوگا تاکہ بنیادی سپلائی کو محفوظ رکھا جا سکے اور دریاؤں اور آبی حیات کو پہنچنے والے نقصانات کو کم کیا جا سکے۔
زرعی شعبے پر اس کے اثرات شدید ہیں۔ آلو، مکئی اور چقندر جیسی فصلوں کی پیداوار میں نمایاں کمی کا خدشہ ہے۔ نیشنل فارمرز یونین نے انتباہ دیا ہے کہ اگر فوری اور مسلسل بارش نہ ہوئی، تو آبپاشی کی کمی زرعی اجناس کی قلت کا باعث بنے گی، جس سے پہلے ہی مہنگائی کی زد میں موجود عام آدمی پر مزید بوجھ پڑے گا۔
ماحولیاتی سطح پر صورتحال تشویشناک ہے۔ دریاؤں میں پانی کی سطح گرنے سے آکسیجن کی مقدار کم ہوئی ہے، جس کے باعث مچھلیوں کی بڑی تعداد ہلاک ہو رہی ہے اور محفوظ آبی مسکن خطرے میں ہیں۔ ایجنسی نے کمپنیوں کو دریاؤں سے مزید پانی نکالنے کے ہنگامی اجازت نامے جاری کیے ہیں، جس سے شہری ضروریات اور مقامی ایکو سسٹم کے درمیان ایک نئی کشمکش پیدا ہو گئی ہے۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ بحران انتظامی غفلت کا نتیجہ ہے۔ انفراسٹرکچر میں دہائیوں سے جاری سرمایہ کاری کی کمی اور پانی کے ضیاع (لی کیج) کو نہ روکنا بنیادی وجوہات ہیں۔ پانی فراہم کرنے والی کمپنیاں گرمی کی لہر کو ذمہ دار ٹھہرا رہی ہیں، لیکن ماحولیاتی گروپوں کا کہنا ہے کہ نئے ذخائر کی تعمیر میں ناکامی اور فرسودہ پالیسیاں اصل قصوروار ہیں۔
حکومت اب کروڑوں شہریوں کے لیے ‘ہوز پائپ’ (پانی کے پائپ) کے استعمال پر پابندی لگانے پر غور کر رہی ہے۔ عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ پانی کے غیر ضروری استعمال سے گریز کریں۔ کیا یہ اقدامات موسم سرما کی بارشوں تک پانی کی قلت کو پورا کرنے کے لیے کافی ہوں گے؟ اس کا جواب آنے والے ہفتوں میں ہی مل سکے گا۔
