وزیر دفاع خواجہ آصف نے پاکستان کے موجودہ صوبائی ڈھانچے پر سوال اٹھاتے ہوئے ملک بھر میں نئے انتظامی یونٹس کے قیام کی تجویز دے دی ہے۔ قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران ان کا مؤقف تھا کہ موجودہ چار صوبائی ماڈل عوام کو بنیادی سہولیات فراہم کرنے میں ناکام ہو چکا ہے۔
خواجہ آصف کا استدلال سادہ ہے: موجودہ صوبے رقبے اور آبادی کے لحاظ سے اتنے بڑے اور متنوع ہیں کہ ایک ہی دارالحکومت سے ان کا انتظام چلانا ممکن نہیں رہا۔ ان کے مطابق، صوبائی دارالحکومتوں میں اختیارات کا ارتکاز دور دراز کے اضلاع کی پسماندگی کی بڑی وجہ ہے، جہاں وسائل کی منتقلی صرف کاغذی کارروائی تک محدود رہتی ہے۔
یہ تجویز بظاہر انتظامی اصلاحات کا حصہ لگتی ہے، مگر اس کا وقت سیاسی حلقوں میں بحث کا مرکز ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب وفاقی حکومت معاشی بحران اور عوامی بے چینی کا سامنا کر رہی ہے، وزیر دفاع کا یہ بیان موجودہ سیاسی جمود کو توڑنے کی کوشش ہے۔ وہ اسے سیاسی نہیں، بلکہ انتظامی ضرورت قرار دیتے ہیں۔
دوسری جانب، اس تجویز کے ناقدین اسے ایک "سیاسی چال” قرار دیتے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ نئے یونٹس کا مطالبہ اٹھا کر دراصل 18ویں ترمیم کے تحت صوبوں کو حاصل خود مختاری کو کمزور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ علاقائی جماعتیں اسے اپنے سیاسی اثر و رسوخ کو ختم کرنے کے ایک منصوبے کے طور پر دیکھ رہی ہیں، جس سے صوبائی سیاست میں ایک نئی کشیدگی پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔
خواجہ آصف نے ان خدشات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بیوروکریٹک رکاوٹیں ترقیاتی منصوبوں کو جام کر چکی ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ چھوٹے اور انتظامی طور پر فعال یونٹس ہی ان رکاوٹوں کو دور کر سکتے ہیں۔ تاہم، اس منصوبے پر عمل درآمد کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ آئینی ترامیم اور سیاسی اتفاق رائے کا فقدان ہے۔
ماضی میں بھی جنوبی پنجاب سمیت نئے صوبوں کے قیام کی کوششیں سیاسی بونگوں کی نذر ہوتی رہی ہیں۔ خواجہ آصف نے یہ بحث چھیڑ تو دی ہے، لیکن کیا یہ پارلیمنٹ میں کسی ٹھوس قانون سازی کی شکل اختیار کر سکے گی یا یہ صرف بیان بازی تک محدود رہے گی؟ اس کا جواب آنے والے دنوں میں سیاسی جماعتوں کے رویے سے ہی ملے گا۔
