کراچی میں طویل خشک سالی کے بعد منگل کے روز شہر کے مختلف علاقوں میں ہلکی بوندا باندی ہوئی، جس سے گرمی کی شدت میں وقتی کمی تو آئی لیکن حبس بدستور برقرار ہے۔ سرجانی ٹاؤن، نارتھ کراچی اور وسطی کراچی کے کچھ حصوں میں وقفے وقفے سے ہونے والی بارش نے سڑکوں پر پھسلن پیدا کر دی، جس سے ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی۔
محکمہ موسمیات نے تصدیق کی ہے کہ یہ بارش بحیرہ عرب میں موجود ہوا کے کم دباؤ کا نتیجہ ہے۔ چیف میٹرولوجسٹ سردار سرفراز کے مطابق، یہ صرف ایک ابتدائی سلسلہ ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ "اگلے 48 گھنٹوں کے دوران شہر کے مختلف علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ مزید بارش کا امکان ہے، جس کی شدت بدھ کی شام تک بڑھ سکتی ہے۔”
شہر کا بوسیدہ انفراسٹرکچر معمولی بارش میں بھی ڈوب جاتا ہے۔ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے ہنگامی ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ بجلی کے کھمبوں اور تاروں سے دور رہیں اور تیز بارش کے دوران غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔
بارش کے ساتھ ہی کراچی کی بجلی فراہم کرنے والی کمپنی ‘کے الیکٹرک’ کی کارکردگی پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ نشیبی علاقوں کے رہائشیوں کو خدشہ ہے کہ بارش کے پہلے قطرے گرتے ہی معمول کے مطابق بجلی کی بندش کا سلسلہ شروع ہو جائے گا۔ کمپنی کی جانب سے اب تک صرف حفاظتی اقدامات کے روایتی پیغامات جاری کیے گئے ہیں، جبکہ تکنیکی تیاریوں کے حوالے سے کوئی واضح بیان سامنے نہیں آیا۔
شہریوں کے لیے یہ بارش اگرچہ گرمی سے نجات کا پیغام ہے، مگر شہر کا نکاسی آب کا نظام، جو جگہ جگہ کوڑے کے ڈھیروں سے بند ہے، ایک بار پھر حکام کی کارکردگی کا امتحان لے گا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اگلی 24 گھنٹوں کی متوقع بارش شہر کو ٹھنڈک پہنچاتی ہے یا ایک بار پھر شہری سیلاب کی صورتحال پیدا کرتی ہے۔
