سائنسدانوں نے مشتری کے طاقتور طوفانوں کے بارے میں اہم نئی معلومات حاصل کی ہیں، جن سے شمسی نظام کے سب سے بڑے سیارے کے پیچیدہ فضائی ماحول کو بہتر انداز میں سمجھنے میں مدد مل رہی ہے۔ تازہ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ مشتری پر موجود دیوقامت طوفان کس طرح بنتے ہیں، طاقت حاصل کرتے ہیں اور کئی دہائیوں بلکہ بعض اوقات صدیوں تک برقرار رہتے ہیں۔
ماہرینِ فلکیات نے ناسا کے جونو خلائی مشن، ہبل خلائی دوربین اور جدید زمینی رصدگاہوں سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کا تجزیہ کیا۔ تحقیق کے دوران مشتری کے گھومتے ہوئے بادلوں، بجلی کی سرگرمیوں اور انتہائی تیز رفتار ہواؤں کا تفصیلی مطالعہ کیا گیا، جس سے اس کے موسمی نظام کے بارے میں نئی معلومات سامنے آئیں۔
تحقیق کا اہم مرکز گریٹ ریڈ اسپاٹ تھا، جو ایک دیوقامت طوفان ہے اور کم از کم 190 برس سے مسلسل سرگرم ہے، جبکہ بعض سائنسدانوں کا خیال ہے کہ یہ اس سے بھی زیادہ قدیم ہو سکتا ہے۔ یہ طوفان زمین سے بھی بڑا ہے اور طاقتور فضائی لہروں کی وجہ سے برقرار ہے۔ اگرچہ تحقیق سے معلوم ہوا کہ اس کا حجم وقت کے ساتھ کچھ کم ہوا ہے، لیکن یہ آج بھی شمسی نظام کا سب سے طاقتور اور مشہور طوفان سمجھا جاتا ہے۔
مطالعے میں یہ بھی سامنے آیا کہ مشتری پر انتہائی شدید گرج چمک والے طوفان بنتے ہیں، جہاں پیدا ہونے والی بجلی زمین کی نسبت کہیں زیادہ طاقتور ہو سکتی ہے۔ سیارے کے اندرونی حصے سے اٹھنے والی حرارت، گیسوں کی مسلسل حرکت اور مشتری کی انتہائی تیز محوری گردش مل کر ان طاقتور موسمی نظاموں کو جنم دیتی ہیں۔
سائنسدانوں کے مطابق مشتری بنیادی طور پر ہائیڈروجن اور ہیلیم گیسوں پر مشتمل ہے اور اس کی کوئی ٹھوس سطح موجود نہیں۔ اسی وجہ سے اس کے طوفان زمین کے مقابلے میں بالکل مختلف انداز میں بنتے ہیں اور بادلوں کے نیچے سینکڑوں کلومیٹر گہرائی تک پھیل سکتے ہیں۔
تحقیق نے مشتری کے اندرونی ڈھانچے، فضائی گردش اور مقناطیسی میدان کے بارے میں بھی اہم معلومات فراہم کی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ نتائج نہ صرف مشتری بلکہ دوسرے گیس جائنٹ سیاروں کی تشکیل اور ارتقا کو سمجھنے میں بھی مددگار ثابت ہوں گے، خصوصاً ان سیاروں کے لیے جو دور دراز ستاروں کے گرد گردش کر رہے ہیں۔
سائنسدانوں کے مطابق مشتری کے طوفانوں کا مطالعہ ہمیں سیاروی موسم، فضائی طبیعیات اور کائنات میں موجود دیوقامت سیاروں کے رویّوں کو بہتر طور پر سمجھنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔
ماہرین کو امید ہے کہ جونو مشن اور مستقبل کی جدید خلائی دوربینیں مشتری کے فضائی ماحول اور اس کے طاقتور طوفانوں کے بارے میں مزید حیرت انگیز راز سامنے لائیں گی۔
