ملک بھر کے تعلیمی بورڈز نے آج صبح میٹرک کے سالانہ نتائج کا اعلان کر دیا ہے، جس میں گزشتہ برسوں کے مقابلے میں تعلیمی کارکردگی کا ایک نیا رجحان سامنے آیا ہے۔
بورڈز کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، کامیابی کا تناسب 2025 کے مقابلے میں تقریباً 4 فیصد کم رہا ہے۔ تعلیمی حکام کا کہنا ہے کہ یہ کمی طلبہ کی محنت میں فرق کی وجہ سے نہیں، بلکہ گریڈنگ کے سخت اور معیاری طریقہ کار کا نتیجہ ہے، جس کا مقصد رٹا سسٹم کی حوصلہ شکنی کرنا تھا۔
اس تبدیلی کا اثر فوری طور پر دکھائی دے رہا ہے۔ وہ طلبہ جو بہترین گریڈز کی امید لگائے بیٹھے تھے، اب کالجوں میں داخلے کے لیے اپنی حکمت عملی پر نظر ثانی کر رہے ہیں۔ سائنس کے نامور کالجوں میں میرٹ بڑھنے کا امکان ہے، جس کے باعث محدود نشستوں پر مقابلہ سخت ہو چکا ہے۔
انٹر بورڈ کمیٹی آف چیئرمین کے ایک سینئر عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ "ہم اب نمبروں کی بہتات کے لیے معیار کو نیچے نہیں گرا رہے۔ اس سال ہماری توجہ تصوراتی سمجھ بوجھ پر تھی؛ اگر طالب علم نے اپنے جواب میں گہرائی نہیں دکھائی تو اسے نمبر نہیں ملے۔”
طلبہ کے لیے یہ نتائج خاصے مایوس کن ہیں۔ اعلیٰ کارکردگی دکھانے والے طلبہ تو کامیاب رہے، لیکن ‘مڈل ٹیر’ یعنی بی اور سی گریڈ حاصل کرنے والے طلبہ کی بڑی تعداد فیل ہونے والوں میں شامل ہے۔ خاص طور پر ریاضی اور فزکس کے پرچوں میں طلبہ کو شدید مشکلات کا سامنا رہا، کیونکہ امتحانی سوالات اس بار کتابی رٹے کے بجائے عملی مہارت پر مبنی تھے۔
بورڈز نے ری چیکنگ اور پیپرز کی دوبارہ گنتی کے لیے پورٹلز کھول دیے ہیں، لیکن ماضی کا تجربہ بتاتا ہے کہ ایسے اپیلوں سے نتائج میں تبدیلی کا امکان بہت کم ہوتا ہے۔ جو طلبہ ناکام ہوئے ہیں، ان کے لیے ضمنی امتحانات اگست کے آخر میں شیئر کیے گئے ہیں، جس کے لیے تیاری کا وقت انتہائی مختصر ہے۔
نتائج کے بعد اب نظریں کالجوں پر مرکوز ہیں۔ داخلہ کمیٹیاں میرٹ لسٹوں کو نئے سخت معیارات کے مطابق ترتیب دینے میں مصروف ہیں، جو انتظامی لحاظ سے ایک بڑا چیلنج ہے۔
میٹرک بیچ 2026 کے لیے ‘آسان نمبروں’ کا دور بظاہر ختم ہو چکا ہے۔ اب اصل سوال یہ ہے کہ کیا تعلیمی نظام ان نئے اور سخت معیارات کے مطابق معیارِ تعلیم فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے یا نہیں۔
