اسلام آباد، لاہور اور کراچی کے علاوہ پاکستان کے دیگر علاقوں میں رپورٹنگ کرنے والے تمام غیر ملکی میڈیا نمائندوں کے لیے اب وزارت اطلاعات و نشریات سے ‘نو آبجیکشن سرٹیفکیٹ’ حاصل کرنا لازمی ہوگا۔
حکومت کی جانب سے جاری کردہ حالیہ ہدایات کے تحت، بین الاقوامی نامہ نگاروں کی نقل و حرکت پر سخت ضوابط لاگو کر دیے گئے ہیں۔ اب کسی بھی غیر ملکی صحافی کو ان تین بڑے شہروں سے باہر کسی بھی ضلع یا علاقے میں جانے کے لیے پیشگی اجازت نامہ لینا ہوگا۔
وزارت اطلاعات کا موقف ہے کہ یہ اقدام غیر ملکی شہریوں کی سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔ تاہم، اس پالیسی نے رپورٹنگ کے عمل میں ایک اضافی بیوروکریٹک رکاوٹ پیدا کر دی ہے، خاص طور پر ان حساس علاقوں میں جہاں سکیورٹی یا سیاسی صورتحال غیر مستحکم رہتی ہے۔
غیر ملکی میڈیا بیوروز کے لیے یہ شرط روزمرہ کے امور میں بڑی مشکل کا باعث بن رہی ہے۔ بریکنگ نیوز کی کوریج کے لیے اکثر فوری روانگی کی ضرورت ہوتی ہے، جبکہ وزارت سے منظوری کا عمل کئی دن یا ہفتوں پر محیط ہو سکتا ہے، جس سے زمینی حقائق تک رسائی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
ایک بڑے مغربی میڈیا ادارے کے سینئر نامہ نگار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ "یہ زمینی حقائق کی رپورٹنگ کرنے والوں کے لیے ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ جب آپ کو کسی جگہ جانے کے لیے اجازت مانگنی پڑتی ہے، تو آپ آزاد مبصر کے طور پر کام نہیں کر رہے ہوتے، بلکہ آپ سرکاری شرائط کے تحت کام کرنے پر مجبور ہیں۔”
یہ پالیسی پاکستان کے اندرونی سکیورٹی اور انسانی حقوق کے منظرنامے کے بارے میں بیانیے کو کنٹرول کرنے کی حکومتی کوششوں کا حصہ معلوم ہوتی ہے۔ بڑے شہروں سے باہر رسائی کو محدود کر کے حکومت ان مسائل کی کوریج کو محدود کر رہی ہے جو عام طور پر دارالحکومت کے پریس کور کی نظروں سے اوجھل رہتے ہیں۔
حکومت کی جانب سے این او سی کا یہ طریقہ کار نیا نہیں ہے، تاہم ماضی میں اس کا اطلاق سکیورٹی حالات کے مطابق گاہے بگاہے ہوتا تھا۔ اب اسے ایک باقاعدہ پالیسی کے طور پر نافذ کرنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ بین الاقوامی میڈیا کے لیے نقل و حرکت کے حوالے سے سخت گیر رویہ اختیار کیا گیا ہے۔
وزارت اطلاعات نے ابھی تک یہ واضح نہیں کیا کہ درخواستوں کی منظوری یا مسترد ہونے کا معیار کیا ہوگا۔ فی الحال، یہ ہدایت تمام رجسٹرڈ غیر ملکی میڈیا کے لیے ایک باضابطہ نوٹیفکیشن ہے، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ بین الاقوامی پریس کے لیے بلا روک ٹوک نقل و حرکت کا دور ختم ہو چکا ہے۔
